اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) وزارتِ تجارت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں موجود مبینہ اضافی چینی برآمد کرنے کی فی الحال کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے 12 اگست کے اجلاس میں چینی کے اضافی ذخائر اور برآمد کی اجازت دینے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ کمیٹی رکن طاہرہ اورنگزیب نے وزارتِ تجارت کے سیکریٹری جواد پال سے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطالبے پر واضح جواب طلب کیا۔
وزارتِ تجارت کے سیکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت چینی کی برآمد کی اجازت دینے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں، اگر مستقبل میں ایسی کوئی تجویز سامنے آئی تو کمیٹی کو آگاہ کیا جائے گا۔
گزشتہ سال حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے کے بعد دوبارہ درآمد کی اجازت دینے پر شدید تنازع پیدا ہوا تھا۔ چینی کی برآمد کے بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ گئیں، جس کے بعد حکومت کے فیصلے پر سوالات اٹھائے گئے اور وزارتِ تجارت و ایف بی آر کے حکام بھی تنقید کی زد میں آئے۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جاوید حنیف خان نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تو کمیٹی ماضی کی طرح دوبارہ کارروائی کرے گی۔
دوسری جانب پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کو خط میں دعویٰ کیا ہے کہ 31 جولائی 2026 تک ملک میں 31 لاکھ 71 ہزار ٹن چینی کے ذخائر موجود تھے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق نومبر 15 تک ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 19 لاکھ 74 ہزار ٹن چینی درکار ہوگی، جس کے بعد تقریباً 11 لاکھ 97 ہزار ٹن چینی اضافی بچ سکتی ہے۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے فوری طور پر 6 لاکھ 33 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ مزید 5 لاکھ 64 ہزار ٹن چینی کو ایک ماہ کے اسٹریٹجک ذخیرے کے طور پر رکھنے اور نئی کرشنگ سیزن شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر برآمد کرنے کی تجویز دی ہے۔
ایسوسی ایشن نے 2026-27 کے کرشنگ سیزن میں گنے کی ریکارڈ فصل کی توقع بھی ظاہر کی ہے اور چینی کی پیداوار 80 لاکھ ٹن سے زائد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔
وزارتِ تجارت کے ایک اعلیٰ حکام کے مطابق چینی برآمد کرنے کا معاملہ فی الحال وزارت کے پاس زیرِ غور نہیں، جبکہ اس معاملے کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی دیکھ رہی ہے۔












