لاہور( پاک ترک نیوز )
دنیا میں توانائی کے بحران کے حل کے لیے نت نئے منصوبے سامنے آ رہے ہیں لیکن اب ایک ایسا منصوبہ بھی زیرِ بحث ہے جس نے سائنس دانوں اور ماہرین کو حیران کر دیا ۔ امریکا میں اسٹارٹ اپ کمپنی نے خلاء سے زمین پر سورج کی روشنی پہنچا کر اسے فروخت کرنے کا انوکھا اور متنازع منصوبہ پیش کر دیا۔
امریکی کمپنی کے مطابق وہ ہزاروں آئینوں کو مدار میں بھیج کر سورج کی روشنی زمین کے مختلف حصوں تک پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔کمپنی اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں تقریباً 60 فٹ چوڑا تجرباتی آئینہ اس سال گرمیوں تک خلاء میں بھیجنے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔۔منصوبے کے مطابق یہ آئینہ سورج کی روشنی کو زمین کی جانب منعکس کرے گا اور تقریباً 3 میل کے علاقے کو روشن کر سکے گا۔
امریکی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کئی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں، جن میں شمسی توانائی کے پلانٹس کو 24 گھنٹے بجلی پیدا کرنے کے قابل بنانا، قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کے دوران روشنی فراہم کرنا اور مستقبل میں اسٹریٹ لائٹس کی جگہ لینا شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے رات کے وقت بھی روشنی فراہم کی جا سکتی ہے، جس سے شہروں، صنعتوں اور زرعی شعبے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اس منصوبے پر شدید تنقید بھی ہو رہی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر خلا سے روشنی زمین پر ڈالی گئی تو اس سے ماحول، جنگلی حیات اور انسانوں کے قدرتی نظامِ زندگی پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق رات کے اندھیرے کا ختم ہونا پرندوں اور دیگر جانوروں کے قدرتی رویوں کو متاثر کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ سورج کی روشنی کو تجارتی مصنوعات میں تبدیل کرنا اخلاقی اور سماجی سوالات کو بھی جنم دے گا۔
فی الحال یہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اگر یہ حقیقت بن گیا تو ممکن ہے کہ مستقبل میں روشنی بھی ایک ایسی چیز بن جائے جسے انسان خریدے اور فروخت کرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سورج کی روشنی واقعی ایک کاروبار بن سکتی ہے؟












