لاہور(پاک ترک نیوز)بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کے خلاف درخواست پر سماعت آج لاہور ہائیکورٹ میں ہوگی،جسٹس خالد اسحاق شہری اشبا کامران کی درخواست پر سماعت کریں گے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دے رکھی ہے، جبکہ سرکاری وکیل کو سلیب سسٹم سے متعلق پالیسی بھی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کا نفاذ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شامل ہیں، تاہم مقررہ حد سے معمولی تجاوز پر بھی بل دوگنا سے زیادہ ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا پھر ایران پر حملہ،جذیرہ قشم اور آبنائے ہرمز کے اطراف میں دھماکے
درخواست گزار کے مطابق اس اضافی بلنگ کا اثر چھ ماہ تک برقرار رہتا ہے، جو صارفین کے لیے سزا کے مترادف ہے۔ نیپرا ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے، سزا دینے والا ادارہ نہیں، جبکہ سلیب سسٹم نیپرا ایکٹ کی متعدد دفعات سے بھی متصادم ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔












