لاہور(پاک ترک نیوز)پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے خلاف متفرق درخواست دائر کردی گئی۔ درخواست جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ 7 سے 11 ستمبر کے دوران پٹرول کی قیمت میں 29 روپے 95 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔
درخواست کے مطابق صرف پانچ روز کے دوران ڈیزل 25 روپے 27 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔مؤقف میں کہا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے براہِ راست اثرات ٹرانسپورٹ، زراعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں، جبکہ ایندھن مہنگا ہونے کا سب سے زیادہ بوجھ تنخواہ دار اور کم آمدن والے طبقے کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈیزل کی قیمت بنگلہ دیش کے مقابلے میں تقریباً 140 روپے، بھارت سے 122 روپے، افغانستان سے 106 روپے اور سری لنکا سے تقریباً 77 روپے فی لیٹر زیادہ ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد پٹرولیم لیوی، ٹیکس، تیل کمپنیوں اور پٹرول پمپ مالکان کے منافع کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں روز اضافہ
درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا مکمل طریقہ کار بھی طلب کرے اور قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجوہات کا جائزہ لے۔












