اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) عالمی ڈیزائن پلیٹ فارم کینوا نے پی آئی اے کی نجکاری کے بعد اس کی نئی برانڈ شناخت کے لیے ملک گیر ڈیزائن مقابلہ منعقد کرنے اور اس کی مکمل فنڈنگ کی پیشکش کر دی۔
کینوا کے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے جنرل منیجر احمد اقبال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم لنکڈ اِن پر جاری بیان میں کہا کہ کمپنی پی آئی اے کی نئی انتظامیہ سے رابطہ کرنا چاہتی ہے تاکہ اس منصوبے پر بات چیت کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس قومی مقابلے کے ذریعے پاکستانی عوام کو پی آئی اے کی نئی شناخت تشکیل دینے کا موقع دیا جائے گا۔ اس میں پی آئی اے کا نیا لوگو،رانڈ گائیڈ لائنز، طیاروں کے بیرونی ڈیزائن اور ری لانچ مارکیٹنگ مہم تیار کی جائے گی۔
احمد اقبال کے مطابق اس مقابلے کا مقصد صرف ایک نیا ڈیزائن تیار کرنا نہیں بلکہ قومی ایئرلائن پر عوام کے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنا بھی ہے
یہ بھی پڑھیں: سپین فیفاورلڈکپ کا چیمپین بنتے ہی فٹبال کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر
انہوں نے لکھا پاکستانیوں کے ہاتھوں، پاکستان کے لیے ،اور اعلان کیا کہ کینوا اس مقابلے کے لیے بڑی انعامی رقم دینے کے لیے بھی تیار ہے۔
اپنی پوسٹ کے ساتھ انہوں نے پی آئی اے کے دو طیاروں کی تصاویر بھی شیئر کیں جن پر اجرک سے متاثرہ رنگا رنگ ڈیزائن بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈیزائن ایک غیر پیشہ ور شخص نے کی مدد سے تیار کیا۔
یہ تجویز سامنے آنے کے بعد لنکڈ اِن پر دلچسپ بحث بھی شروع ہو گئی۔ بعض صارفین نے کہا کہ طیاروں پر زیادہ رنگ کرنے سے ان کا وزن بڑھ سکتا ہے، ایندھن کی کھپت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور گہرے رنگ گرمی زیادہ جذب کرتے ہیں، جس سے کولنگ کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب متعدد صارفین نے اس خیال کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کی ثقافت، مقامی فن اور نوجوان ڈیزائنرز کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا بہترین موقع مل سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں زیادہ تر مسافر بردار طیارے سفید رنگ میں رکھے جاتے ہیں کیونکہ اس سے دیکھ بھال، درجہ حرارت پر قابو پانے اور آپریشنل اخراجات کم رکھنے میں مدد ملتی ہے، اس لیے کسی بھی نئے ڈیزائن میں خوبصورتی کے ساتھ عملی تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔












