لاہور( پاک ترک نیوز) ناظرین، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ گاڑی میں ٹرن سگنل آن کرتے ہی "کلک، کلک” کی آواز کیوں سنائی دیتی ہے؟ کیا یہ صرف ایک عام مکینیکل آواز ہے یا اس کے پیچھے کوئی دلچسپ سائنسی راز پوشیدہ ہے؟
جب بھی ڈرائیور دائیں یا بائیں مڑنے کے لیے ٹرن سگنل استعمال کرتا ہے تو ڈیش بورڈ پر اشارے کی لائٹ مخصوص وقفوں سے جلتی اور بجھتی ہے، جبکہ اسی رفتار سے "کلک، کلک” کی آواز بھی سنائی دیتی رہتی ہے۔ زیادہ تر لوگ اس آواز پر کبھی غور نہیں کرتے، مگر اس کی تاریخ تقریباً ایک صدی پرانی ہے۔
1930ء کی دہائی کے آخر میں جب جدید ٹرن سگنل سسٹم متعارف کرایا گیا تو اس میں ایک خاص دو دھاتی اسپرنگ استعمال کیا جاتا تھا۔ بجلی گزرنے سے یہ اسپرنگ گرم ہو کر جھکتا، دھاتی رابطہ قائم کرتا اور بلب روشن ہو جاتا۔ چند لمحوں بعد اسپرنگ ٹھنڈا ہو کر اپنی اصل حالت میں واپس آتا، رابطہ ٹوٹ جاتا اور بلب بجھ جاتا۔ اسی مسلسل حرکت کے دوران پیدا ہونے والی آواز ہی مشہور "کلک، کلک” تھی۔
وقت کے ساتھ گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ تھرمل اسپرنگ کی جگہ الیکٹرانک فلیشرز، الیکٹرو میگنیٹس اور جدید کمپیوٹرائزڈ کنٹرول سسٹمز نے لے لی، جنہیں اس آواز کی تکنیکی ضرورت نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین پر 9 ارب 80 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ انجینئرز نے جان بوجھ کر اس آواز کو ختم نہیں کیا۔ اس کی وجہ انسانی نفسیات ہے۔ یہ آواز ڈرائیور کو مسلسل یاد دلاتی رہتی ہے کہ ٹرن سگنل ابھی تک آن ہے۔ اگر یہ آواز نہ ہو تو بہت سے لوگ اشارہ بند کرنا بھول سکتے ہیں، جس سے سڑک پر حادثات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
یعنی آج آپ کی گاڑی سے آنے والی "کلک، کلک” صرف ایک آواز نہیں بلکہ تقریباً سو سال پرانی انجینئرنگ، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی رویوں کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ایک ذہین حفاظتی اشارہ ہے۔ اگلی بار جب آپ ٹرن سگنل استعمال کریں تو یاد رکھیے گا، یہ آواز آپ کی محفوظ ڈرائیونگ میں خاموشی سے اہم کردار ادا کر رہی ہوتی ہے۔









