نئی دہلی ( پاک ترک نیوز) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے حالیہ دورۂ سیشلز کے دوران ایک نیا اعزاز "گارڈین آف دی بلیو ہورائزن سے نوازا گیا، تاہم یہ ایوارڈ متعارف ہوتے ہی تنازع کا شکار ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ اعزاز مودی کے دورے سے قبل موجود نہیں تھا بلکہ خاص طور پر ان کے لیے تخلیق کیا گیا۔ مزید یہ کہ ایوارڈ کے سرٹیفکیٹ میں متعدد املا کی غلطیاں بھی سامنے آئیں جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں تنقید کی گئی۔
برطانیہ کی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی کی پروفیسر نتاشا کول کے مطابق، اس جلد بازی نے حکومتِ سیشلز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ معاملہ سفارتی کامیابی کے بجائے مودی کی ذاتی تشہیر سے جوڑ کر دیکھا گیا۔
اپوزیشن جماعت کانگریس کی رہنما سپریا شرینیت نے بھی اس معاملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی کو کوئی بھی ایوارڈ دے دیں، وہ فوراً لینے پہنچ جاتے ہیں ، جبکہ انہوں نے سرٹیفکیٹ میں موجود غلطیوں کو بھی حکومتی عجلت کا نتیجہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھو پرجنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے ،بلاول بھٹو زرداری کا بھارت کو دو ٹوک پیغام
بعد ازاں سیشلز کی وزارتِ خارجہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا سرٹیفکیٹ محض ایک ابتدائی مسودہ تھا، جبکہ اصل اور حتمی سرٹیفکیٹ درست ہے۔ وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ گارڈین آف دی بلیو ہورائزن ایک حقیقی اعزاز ہے، جس کی منظوری مودی کے دورے سے چند روز قبل کابینہ نے دی تھی۔
نریندر مودی گزشتہ 12 برسوں کے دوران مختلف ممالک کے دوروں میں 30 سے زائد بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔ حالیہ دورۂ انڈونیشیا کے دوران انہیں وہاں کا اعلیٰ ترین سول اعزاز "بنتانگ آدی پورنا” دیا گیا












