نئی دہلی(پاک ترک نیوز)بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا نے بھارت کو پانچویں نسل کے جدید جنگی طیارے ایف 35 کی فروخت کی کوئی باضابطہ پیشکش نہیں کی۔ انہوں نے امریکی فوجی کمانڈر سے دلچسپ انداز میں کہا کہ آپ کے اہلکار ہمیں طیارے کے قریب بھی نہیں جانے دیتے اور بات اسے فروخت کرنے کی کرتے ہیں۔
بھارتی اخبار دی ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے یہ بات کثیر ملکی فضائی مشق ’’ترنگ شکتی‘‘ کے دوران ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ اس موقع پر امریکی بحرالکاہل فضائی افواج کے کمانڈر جنرل کیون شنائیڈر بھی موجود تھے۔
ایف 35 طیارے کی صلاحیتوں سے متعلق سوال پر اے پی سنگھ نے امریکی کمانڈر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ امریکی اہلکار انہیں طیارے کے قریب تک نہیں جانے دیتے، پھر اسے فروخت کرنے کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے بھارتی حکام کو طیارے کے اندر موجود آلات اور پائلٹ کے بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں دکھائی، البتہ انہیں طیارے کے ساتھ قریب رہتے ہوئے پرواز کرنے کی اجازت دی گئی۔ ان کے مطابق، ممالک اپنی حساس ٹیکنالوجی کی حفاظت اسی طرح کرتے ہیں۔
جنرل کیون شنائیڈر نے کہا کہ ایف 35 جیسے جدید جنگی طیاروں سے متعلق معلومات تک رسائی اور ان کے تبادلے کا فیصلہ مخصوص حفاظتی ضوابط کے تحت کیا جاتا ہے۔ انہی ضوابط کے ذریعے طے ہوتا ہے کہ کون سی معلومات کس ملک کو، کب اور کس حد تک فراہم کی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، لیبیا سے خام تیل درآمد کرے گا، ترکیہ کا تحقیقی جہاز اگلے ماہ پاکستان پہنچے گا
ترنگ شکتی مشق میں پہلی مرتبہ امریکی ایف 35 طیاروں نے بھارتی سرزمین پر کسی فوجی مشق میں حصہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی فضائیہ کے چھ طیارے ان مشقوں میں شریک ہوئے۔
بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ روس نے پانچویں نسل کے جنگی طیارے ایس یو 57 کی پیشکش کی ہے، تاہم اس بارے میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
بھارت اپنے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے جدید درمیانے درجے کے جنگی طیارے کے منصوبے کی تکمیل تک عبوری متبادل تلاش کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس مقامی طیارے کی تیاری میں ابھی تقریباً ایک دہائی لگ سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت چین کے جے 20 اور جے 35 جیسے پانچویں نسل کے جنگی طیاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ چین کی جانب سے پاکستان کو 40 جے 35 طیارے فراہم کرنے کا وعدہ بھی رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے، تاہم اس کی فراہمی تاحال شروع نہ ہونے کا ذکر ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کو ایسے طیارے ملنے کی صورت میں بھارتی فضائیہ کو خطے میں چین کے جدید جنگی طیاروں کی سرگرمیوں اور صلاحیتوں کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پانچویں نسل کے جنگی طیاروں میں جدید ریڈار، برقی جنگی نظام اور حرارتی اہداف کی نشاندہی کرنے والے آلات سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کرکے پائلٹ کو میدانِ جنگ کی صورت حال سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
ان طیاروں کی ساخت میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے جو دشمن کے ریڈار پر ان کی شناخت مشکل بناتی ہے۔ اندرونی حصوں میں ہتھیار رکھنے اور ریڈار کی لہروں کو جذب کرنے والے مواد کے استعمال سے انہیں دشمن کے فضائی دفاع کے مقابلے میں برتری حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔












