تل ابیب : (پاک ترک نیوز)اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے موبائل فون کے پچھلے کیمرے پر سرخ ٹیپ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل۔ وائرل تصویر میں نیتن یاہو کو یروشلم میں واقع اسرائیلی پارلیمنٹ کے زیرِ زمین پارکنگ ایریا میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ اپنی سیاہ لگژری گاڑی کے قریب کھڑے ہو کر فون پر کسی سے بات کر رہے ہیں۔
اس تصویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ نیتن یاہو کے فون کے کیمرہ لینس اور سینسرز موٹی سرخ ٹیپ سے ڈھکے ہوئے ہیں۔پوڈکاسٹر ماریو نافل ” Mario Nawfal ” نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ نیتن یاہو نے اپنے فون کے کیمرے پر ٹیپ کیوں لگائی؟ وہ کس چیز سے فکرمند ہیں؟
اگر اسرائیلی وزیرِاعظم کو اپنے فون کی حفاظت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو عام لوگوں کو بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ اگر خود وزیرِاعظم ایسا کر رہے ہیں تو اس کا عام شہریوں کے لیے کیا مطلب نکلتا ہے، یہ ایک اہم سوال ہے۔
ایک امریکی ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ نیتن یاہو کے فون پر لگی سرخ ٹیپ ایک خاص قسم کا سیکیورٹی اسٹیکر ہے جسے ٹیمپر ایویڈنٹ سیل” Tamper evident seal ” کہا جاتا ہے۔
یہ ٹیپ اہم سیکیورٹی زونز میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد فون کے کیمرے کو ڈھانپنا ہوتا ہے تاکہ حساس معلومات کی تصاویر جان بوجھ کر یا غلطی سے نہ لی جا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق موبائل فونز میں کیمرے، مائیکروفون اور دیگر سینسرز ہوتے ہیں جنہیں خفیہ معلومات کو ریکارڈ کرنے یا لیک کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اسی وجہ سے حساس اور محدود حکومتی علاقوں میں تصاویر بنانا سختی سے ممنوع ہے، خاص طور پر ان حصوں میں جہاں خفیہ معلومات موجود ہوتی ہیں۔
فون پر اس قسم کی اسٹیکر لگانا غالباً ایک سیکیورٹی اقدام ہے، جس کا مقصد جاسوسی یا ریکارڈنگ کو روکنا ہوتا ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں حساس معلومات محفوظ کی جاتی ہیں۔












