لاہور( پاک ترک نیوز) نئی آزاد سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ چینی سے بھرپور مشروبات، خصوصاً سافٹ ڈرنکس، نہ صرف ٹائپ ٹو ذیابیطس بلکہ دیگر صحت کے مسائل کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں، جبکہ بعض ماہرین نے اس حوالے سے مشروبات کی صنعت کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
2025–2030 کے امریکی غذائی رہنما اصولوں کے لیے کی گئی ایک جامع سائنسی تحقیق کے مطابق، چینی ملا مشروبات بالغ افراد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس جائزے میں 2000 سے 2024 کے دوران شائع ہونے والی متعدد تحقیقات کا تجزیہ کیا گیا۔
2025 کے تحقیقی جائزے میں بھی یہ نتیجہ سامنے آیا کہ جتنی زیادہ مقدار میں لوگ میٹھے مشروبات استعمال کرتے ہیں، اتنا ہی ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سافٹ ڈرنکس میں موجود فروکٹوز اور گلوکوز جسم میں تیزی سے جذب ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں فائبر اور پروٹین موجود نہیں ہوتے جو شکر کے جذب ہونے کی رفتار کو کم کر سکیں۔ مسلسل زیادہ مقدار میں ایسے مشروبات پینے سے وزن میں اضافہ، انسولین مزاحمت اور خون میں چکنائی (ٹرائی گلیسرائیڈز) بڑھنے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جو بالآخر ٹائپ ٹو ذیابیطس کا سبب بنتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی میں پانی کم پینا کتنا خطرناک
2016 میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے محقق ڈاکٹر ڈین شلنگر کی سربراہی میں 60 سائنسی مطالعات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ 34 مطالعات نے میٹھے مشروبات، موٹاپے اور ذیابیطس کے درمیان تعلق ظاہر کیا، جبکہ ان میں سے صرف ایک تحقیق کو مشروبات کی صنعت نے مالی معاونت فراہم کی تھی۔
اس کے برعکس، جن 26 مطالعات میں اس تعلق کو مسترد کیا گیا، وہ تمام مشروبات کی صنعت کی مالی معاونت سے کیے گئے تھے۔ محققین نے خدشہ ظاہر کیا کہ صنعت بعض اوقات سائنسی مباحثے میں الجھن پیدا کر کے اپنے کاروباری مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔
ایک اور تجزیے میں یہ بھی سامنے آیا کہ مشروبات کی صنعت کی مالی معاونت سے ہونے والی تحقیقات میں، آزادانہ تحقیقات کے مقابلے میں، میٹھے مشروبات اور وزن میں اضافے کے درمیان تعلق کو مسترد کرنے کا امکان تقریباً پانچ گنا زیادہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق 2015 میں منظر عام پر آنے والی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ کوکا کولا نے گلوبل انرجی بیلنس نیٹ ورک نامی ایک تنظیم کی مالی معاونت کی تھی، جس کے پیغامات میں غذا کے بجائے صرف ورزش پر زور دیا جاتا تھا تاکہ وزن میں اضافے میں چینی کے کردار سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کمپنی نے تنظیم کی قیادت اور پیغام رسانی پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی، تاہم یہ معلومات سامنے آنے کے بعد مذکورہ تنظیم تحلیل ہو گئی۔












