لاہور (پاک ترک نیوز )مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی پنجاب کوارڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور شکوے شکایات سامنے آگئے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بلدیاتی انتخابات، مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کسانوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عوامی مسائل حل نہ ہونے پر شدید احتجاج کیا۔
جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی وسطی پنجاب حسن مرتضیٰ نے عوامی ایشوز پر مسلم لیگ ن کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ذرائع کے مطابق بلدیاتی انتخابات نہ کروانے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر بھی پیپلز پارٹی قیادت نے شدید ردعمل دیا۔
اجلاس میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کسانوں کے مسائل پر بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے احتجاج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت اور پیپلز پارٹی میں مذاکرات کا ایک اور دور
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران حسن مرتضیٰ اور اسحاق ڈار کے درمیان تلخی بھی ہوئی۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے گزشتہ اجلاس میں دی گئی نامزدگیوں اور ترقیاتی اسکیموں پر عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ بھی کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے پاس پیپلز پارٹی کی جانب سے دی گئی سفارشات اور اسکیموں کا ریکارڈ بھی موجود نہیں تھا۔
حسن مرتضیٰ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے پیپلز پارٹی کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے، وعدوں پر عمل نہیں ہوتا۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کی جانب سے قمر زمان کائرہ اور حسن مرتضیٰ کی تنقید پر بھی شکوہ کیا گیا۔
حسن مرتضیٰ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت پنجاب اور مسلم لیگ ن کے ترجمان پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید کریں گے تو جواب دینا ہمارا حق ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان عوامی مسائل اور حکومتی کارکردگی کے حوالے سے اختلافات کھل کر سامنے آئے۔












