لاہور( پاک ترک نیوز) کتابیں ابھی کھلی ہی تھیں، قلم ابھی کاپیوں پر چلنا شروع ہوئے تھے، خواب ابھی آنکھوں میں روشن تھے… مگر چند لمحوں میں سب کچھ ملبے تلے دفن ہو گیا۔
وہ جگہ جہاں علم کی روشنی بکھرنی تھی… وہاں چیخیں گونجیں، آہیں بلند ہوئیں اور پھر ایسا سناٹا چھا گیا… جس نے پورے لاہور کو سوگ میں ڈبو دیا۔
ننھے ہاتھ کتابیں تھامے گھر سے نکلے تھے. کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ یہ ان کا آخری سفر ہوگا۔ لاہور کے علاقے کاہنہ میں قائم ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک زمین بوس ہوئی… اور پل بھر میں معصوم بچوں کی ہنسی، درد بھری چیخوں میں بدل گئی۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی اہلِ علاقہ، ریسکیو ٹیمیں اور پولیس موقع پر پہنچ گئیں۔ ہر ہاتھ ملبہ ہٹا رہا تھا… ہر آنکھ کسی معجزے کی منتظر تھی۔ معصوم بچوں کے چہروں سے مٹی صاف کی جا رہی تھی… شاید کوئی سانس باقی ہو… شاید کوئی ننھی جان بچ جائے… مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
اس دل دہلا دینے والے سانحے میں 14 معصوم بچے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے، جبکہ 5 بچے اور ایک ٹیچر زخمی ہوئے، جن میں سے ایک طالب علم اور ٹیچر اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
جب سفید کفنوں میں لپٹی ننھی میتیں گھروں تک پہنچیں… تو ہر دروازے پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ کسی ماں کی گود ہمیشہ کے لیے اجڑ گئی… کسی باپ کے خواب دفن ہو گئے.۔ بہن بھائی اپنے ساتھی کو پکار رہے تھے… مگر جواب دینے والا ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا تھا۔
جاں بحق ہونے والوں میں ماہ نور، رمشا، ارتضیٰ، تبیشہ، عبداللہ، سلمان، غلام نبی، عروج، فواد، امان اور خدیجہ سمیت وہ بچے بھی شامل تھے… جن کی عمریں صرف پانچ سے سولہ برس کے درمیان تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: کاہنہ میں چھت گرنے سے بچوں کی ہلاکت کا مقدمہ درج
نماز جنازہ میں عزیز و اقارب، ہمسائے اور شہری بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ ہر آنکھ اشکبار تھی… ہر زبان پر ایک ہی دعا تھی… اور ہر دل میں ایک ہی سوال۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹیوشن سینٹر کی چھت ٹی آر گارڈرز اور ناقص تعمیراتی میٹریل سے بنائی گئی تھی، جبکہ اسی چھت پر تعمیراتی کام بھی جاری تھا۔ مزدور کام کر رہے تھے کہ اچانک چھت بوجھ برداشت نہ کر سکی اور بچوں پر آ گری۔
پولیس نے مالک مکان سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے موقع پر پہنچ کر لواحقین سے ملاقات کی اور انصاف و ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔












