
آر اے شمشاد
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تین میچوں پر مشتمل ایک روزہ سیریز میں قومی ٹیم کی شکست کا ذمہ دار کون ہے ؟ یہ وہ سوال کا جو ہر شائقین کرکٹ کے ذماغ میں گردش کر رہا ہے ۔
تین میچوں پر مشتمل سیریز کے تیسرے اور آخری ایک روزہ میچ میں بنگال ٹائیگرز نے شاہینوں کو شکست دے کر سیریز بھی اپنے نام کرلی ہے ۔
فیصلہ کن ون ڈے میں قومی ٹیم کو 11رنز سے شکست دے کر بنگلہ دیشی ٹیم سیریز دو صفر سے اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئی ہے ۔
تیسرے اور آخری میچ سے قبل سیریز ایک ایک سے برابر تھی ۔پہلے ون ڈے میں بھی بنگلہ دیش نے جیت اپنے نام کی تھی جبکہ شاہین صرف ایک ہی میچ میں کامیابی حاصل کرسکے تھے ۔
ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی کے بعد یہ سیریز بھی ہارنے پر قومی ٹیم شدید تنقید کی زد میں ہے وہیں سلیکشن کمیٹی کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے ۔
بابراعظم اور فخر مان جیسے مایہ ناز بلے بازوں کو ایک روزہ سیریز میں جگہ نہ ملنے پر پہلے ہی سلیکشن کمیٹی پر تنقید کا سلسلہ جاری تھا ۔
شائقین کرکٹ کی اکثریت مسلسل شکست پر شدید ناراض نظر آ رہی ہے وہیں سابق کرکٹرز بھی سلیکشن کے معیار پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔
ایسی سیریز میں متعدد نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کا سلیکشن کمیٹی کے فیصلے پر اب سوال اٹھ رہے ہیں کیونکہ کوئی بھی کھلاڑی خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہا ہے ۔
قومی ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کسی خاص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام نظر آئے ہیں اور وہ سیریز میں محض 4وکٹیں ہی حاصل کر پائے ہیںجبکہ حارث رئوف نے صرف 2میچز میں 6وکٹیں اپنے نام کی ہیں۔
بیٹنگ میں بھی کوئی بھی بلے باز خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا تاہم آخری میچ میں سلمان علی آغا نے 107رنز کی بہترین اننگز کھیلی تاہم وہ ٹیم کے کامیاب نہ آ سکی اور میچ کے ساتھ ساتھ سیریز بھی بنگالی ٹائیگرز کے نام ہو گئی ۔
تاہم سابق کرکٹرز کے ساتھ شائقین کرکٹ بھی اس سیریز میں شکست پر سیخ پا اور سوال کر رہے ہیں کہ آخر قومی ٹیم کی بنگلہ دیش کیخلاف شکست کا ذمہ دار کون ہے۔












