تہران : (پاک ترک نیوز)دنیا کی سب سے مضبوط فوج کو ایسا تھپڑ ماریں گے کہ وہ دوبارہ اٹھ نہ سکے گی۔ یہ اہم بیان ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے سامنے آیا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا جنگ چاہتا ہے تو پھر جنگ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی اتنی بڑی فوج کو ایسی سبکی اٹھانی پڑے گی اور ایسی شکست ہوگی کہ وہ دوبارہ سنبھل نہیں سکے گی۔
میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اگر چھوٹی طاقت بڑی طاقت کو شکست دے دے تو بڑی طاقت کا رعب ختم ہو جاتا ہے اور وہ آئندہ کسی بھی اقدام سے پہلے سو بار سوچتی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکا کے بڑے اور جدید بحری بیڑے آ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ہاں، وہ بہت ترقی یافتہ ہیں، لیکن انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت اس سے بھی زیادہ ترقی یافتہ ہو سکتی ہے۔
یعنی انہوں نے اشارہ دیا کہ ان بحری بیڑوں کو ڈبویا بھی جا سکتا ہے یا کم از کم ناکارہ بنایا جا سکتا ہے۔
اگر ایک بھی بیڑا مکمل طور پر نہ سہی، جزوی طور پر ہی ناکارہ بنا دیا جائے تو برسوں کی محنت اور سرمایہ کاری ضائع ہو سکتی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا مؤقف یہ ہے کہ یہ ڈکٹیشن قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق سرنڈر کرنے کے بجائے مزاحمت بہتر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے نظریے میں مشکل کو مصیبت نہیں بلکہ امتحان سمجھا جاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ مشکل میں انسان پھنس جاتا ہے، جبکہ امتحان میں سرخرو بھی ہو سکتا ہے۔
تاریخی مثالیں دیتے ہوئے کہا گیا کہ کئی مواقع پر چھوٹی قوتوں نے بڑی سلطنتوں کو شکست دی ہے اور تاریخ کا دھارا بدل دیا ہے۔ اسی تناظر میں کہا جا رہا ہے کہ ایران سرنگوں نہیں ہوگا۔ ان کے بقول، یہ مزاحمت ایران کی تاریخ اور اس کی قومی نفسیات کا حصہ ہے، جو اسلام سے پہلے بھی موجود تھی۔












