منگل , 1 ستمبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نہ ہوتا تو محمد عامر آج کہاں کھڑے ہوتے؟

4 گھنٹے پہلے
A A
Where would Mohammad Amir stand today had the spot-fixing scandal not occurred
Share on Facebookwhatsapp

لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر ایک بار پھر کرکٹ کے مداحوں کو اپنے شاندار ماضی کی یاد دلا گئے، تاہم ان کی موجودہ کارکردگی نے ایک پرانا سوال بھی زندہ کر دیا کہ اگر 2010 کا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نہ ہوتا تو محمد عامر آج دنیا کے عظیم ترین فاسٹ بولرز میں شامل ہوتے؟

محمد عامر نے حال ہی میں لارڈز میں دی ہنڈرڈ کے فائنل میں ٹرینٹ راکٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے عمدہ بولنگ کی۔ 34 سال کی عمر میں ان کی رفتار ماضی کے مقابلے میں کم ضرور ہوئی ہے، لیکن گیند کو سوئنگ کرنے اور بیٹر کو مشکل میں ڈالنے کی صلاحیت اب بھی برقرار ہے۔

محمد عامر نے پاکستان کے لیے 36 ٹیسٹ اور 123 وائٹ بال میچز کھیلے۔ انہوں نے 2009 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور 2017 کی چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی پاکستانی ٹیم میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

لیکن ان کے کیریئر کا سب سے بڑا موڑ 2010 میں آیا، جب صرف 18 سال کی عمر میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کے دوران اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ان کا نام سامنے آیا۔اس وقت محمد عامر انگلینڈ کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر رہے تھے۔ لارڈز ٹیسٹ کے دوران وہ صرف 18 سال اور 136 دن کی عمر میں 50 ٹیسٹ وکٹیں لینے والے کم عمر ترین بولر بنے۔

اسی میچ میں ان کی جانب سے بڑے فاصلے سے کرائی جانے والی نو بالز نے شکوک کو جنم دیا۔ بعد ازاں تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ نو بالز مبینہ طور پر پہلے سے طے شدہ تھیں تاکہ جواری ان مخصوص گیندوں پر شرط لگا کر فائدہ اٹھا سکیں۔اسپاٹ فکسنگ کیس میں محمد عامر کے ساتھ سلمان بٹ اور محمد آصف بھی ملوث پائے گئے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے محمد عامر پر پانچ سال کی پابندی عائد کی، جبکہ بعد میں انہیں جوا سے متعلق جرم میں چھ ماہ قید کی سزا بھی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: 18 سال سے کم عمر شادی چائلڈ میرج قرار

عامر نے پابندی کے تقریباً ساڑھے چار سال کرکٹ سے باہر گزارے۔ یہی وہ عرصہ تھا جب ایک نوجوان فاسٹ بولر عموماً اپنی تکنیک، رفتار اور تجربے کو بہتر بناتا ہے۔2016 میں پابندی مکمل ہونے کے بعد محمد عامر نے پاکستان ٹیم میں واپسی کی۔ ان کی واپسی پر ٹیم کے اندر اور باہر تحفظات بھی سامنے آئے، جبکہ انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں واپسی کے پہلے ٹیسٹ کے دوران تماشائیوں نے بھی انہیں طنزیہ طور پر ’’نو بال‘‘ کے نعروں کا سامنا کرایا۔

پاکستان کے سابق کوچ مکی آرتھر کے مطابق اگر محمد عامر کو وہ چار سے ساڑھے چار سال نہ گنوانے پڑتے تو وہ دنیا کے آل ٹائم عظیم فاسٹ بولرز میں شامل ہو سکتے تھے۔مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ عامر میں اتنی صلاحیت تھی کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بڑی تعداد میں وکٹیں حاصل کرتے اور اپنے دور کے دنیا کے تین بہترین فاسٹ بولرز میں شمار ہوتے۔محمد عامر نے 2019 میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی، جبکہ بعد میں بین الاقوامی کرکٹ سے بھی مکمل طور پر ریٹائر ہوگئے۔ اب وہ مختلف فرنچائز لیگز میں کھیلتے ہیں اور انگلینڈ میں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

عامر کے مطابق ان کی زندگی کا مشکل ترین دور 2010 کے بعد شروع ہوا، لیکن اسی دوران ان کی ملاقات اپنی اہلیہ نرجس سے ہوئی، جو ان کی قانونی ٹیم کا حصہ تھیں۔ عامر انہیں اپنی کرکٹ میں واپسی میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت قرار دیتے ہیں۔آج محمد عامر 34 سال کی عمر میں بھی اپنی سوئنگ اور گیند پر کنٹرول کی وجہ سے خطرناک بولر سمجھے جاتے ہیں۔ مکی آرتھر کے مطابق عامر کی مہارت آج بھی غیر معمولی ہے، اگرچہ ان کی رفتار ماضی جیسی نہیں رہی۔

محمد عامر نے مجموعی طور پر ایک کامیاب کرکٹ کیریئر ضرور بنایا، لیکن ان کی کہانی میں ’’اگر‘‘ آج بھی موجود ہے۔اگر 2010 کا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نہ ہوتا، اگر وہ اپنے کیریئر کے اہم ترین ساڑھے چار سال ضائع نہ کرتے، تو ممکن ہے 2026 میں پاکستان کے لیے 100 سے زائد ٹیسٹ اور 500 وکٹوں کے قریب پہنچنے والے فاسٹ بولر کا ذکر محمد عامر کے نام کے ساتھ ہو رہا ہوتا۔

موضوعات : #spotfixingmuhammadaamirSCANDLE
ShareSend

متعلقہ خبریں

Is President Trump facing another scandal
تازہ ترین

کیاصدر ٹرمپ کو ایک اور سکینڈل کا سامناہے؟

19 اگست , 2026
اداکارہ مومنہ اقبال نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ پر کیا الزام لگایا؟
پاکستان

اداکارہ مومنہ اقبال نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ پر کیا الزام لگایا؟

22 مئی , 2026
اگلی خبر
Major surgery for the national team after consecutive defeats in England, 7 players and 2 coaches dismissed

انگلینڈ میں مسلسل شکستوں پر قومی ٹیم کی بڑی سرجری، 7 کھلاڑی اور 2 کوچز فارغ

یہ بھی پڑھیں

Egyptian Rafale aircraft refueled in mid-air by a Chinese YU-20 tanker.

چینی YU-20 ٹینکرسے مصری رافیل طیارے کو فضا میں ایندھن فراہم

1 ستمبر , 2026
BYD's agreement on the use of robots in industrial production

BYDکا صنعتی پیداوار میں روبوٹس کے استعمال کا معاہدہ

1 ستمبر , 2026
Pakistan has secured the chairmanship of the Shanghai Cooperation Organization for 2026-27.

پاکستان کو2026-27کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی مل گئی

1 ستمبر , 2026
Iranian President Masoud Peshkeshian appreciates Pakistani peace efforts

ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستانی امن کوششوں کے معترف

1 ستمبر , 2026
Using water as a political weapon is unacceptable; adherence to international agreements is essential Prime Minister

پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا ناقابل قبول، عالمی معاہدوں پر عمل ضروری ہے: وزیراعظم

1 ستمبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔