لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر ایک بار پھر کرکٹ کے مداحوں کو اپنے شاندار ماضی کی یاد دلا گئے، تاہم ان کی موجودہ کارکردگی نے ایک پرانا سوال بھی زندہ کر دیا کہ اگر 2010 کا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نہ ہوتا تو محمد عامر آج دنیا کے عظیم ترین فاسٹ بولرز میں شامل ہوتے؟
محمد عامر نے حال ہی میں لارڈز میں دی ہنڈرڈ کے فائنل میں ٹرینٹ راکٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے عمدہ بولنگ کی۔ 34 سال کی عمر میں ان کی رفتار ماضی کے مقابلے میں کم ضرور ہوئی ہے، لیکن گیند کو سوئنگ کرنے اور بیٹر کو مشکل میں ڈالنے کی صلاحیت اب بھی برقرار ہے۔
محمد عامر نے پاکستان کے لیے 36 ٹیسٹ اور 123 وائٹ بال میچز کھیلے۔ انہوں نے 2009 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور 2017 کی چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی پاکستانی ٹیم میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
لیکن ان کے کیریئر کا سب سے بڑا موڑ 2010 میں آیا، جب صرف 18 سال کی عمر میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کے دوران اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ان کا نام سامنے آیا۔اس وقت محمد عامر انگلینڈ کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر رہے تھے۔ لارڈز ٹیسٹ کے دوران وہ صرف 18 سال اور 136 دن کی عمر میں 50 ٹیسٹ وکٹیں لینے والے کم عمر ترین بولر بنے۔
اسی میچ میں ان کی جانب سے بڑے فاصلے سے کرائی جانے والی نو بالز نے شکوک کو جنم دیا۔ بعد ازاں تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ نو بالز مبینہ طور پر پہلے سے طے شدہ تھیں تاکہ جواری ان مخصوص گیندوں پر شرط لگا کر فائدہ اٹھا سکیں۔اسپاٹ فکسنگ کیس میں محمد عامر کے ساتھ سلمان بٹ اور محمد آصف بھی ملوث پائے گئے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے محمد عامر پر پانچ سال کی پابندی عائد کی، جبکہ بعد میں انہیں جوا سے متعلق جرم میں چھ ماہ قید کی سزا بھی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: 18 سال سے کم عمر شادی چائلڈ میرج قرار
عامر نے پابندی کے تقریباً ساڑھے چار سال کرکٹ سے باہر گزارے۔ یہی وہ عرصہ تھا جب ایک نوجوان فاسٹ بولر عموماً اپنی تکنیک، رفتار اور تجربے کو بہتر بناتا ہے۔2016 میں پابندی مکمل ہونے کے بعد محمد عامر نے پاکستان ٹیم میں واپسی کی۔ ان کی واپسی پر ٹیم کے اندر اور باہر تحفظات بھی سامنے آئے، جبکہ انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں واپسی کے پہلے ٹیسٹ کے دوران تماشائیوں نے بھی انہیں طنزیہ طور پر ’’نو بال‘‘ کے نعروں کا سامنا کرایا۔
پاکستان کے سابق کوچ مکی آرتھر کے مطابق اگر محمد عامر کو وہ چار سے ساڑھے چار سال نہ گنوانے پڑتے تو وہ دنیا کے آل ٹائم عظیم فاسٹ بولرز میں شامل ہو سکتے تھے۔مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ عامر میں اتنی صلاحیت تھی کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بڑی تعداد میں وکٹیں حاصل کرتے اور اپنے دور کے دنیا کے تین بہترین فاسٹ بولرز میں شمار ہوتے۔محمد عامر نے 2019 میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی، جبکہ بعد میں بین الاقوامی کرکٹ سے بھی مکمل طور پر ریٹائر ہوگئے۔ اب وہ مختلف فرنچائز لیگز میں کھیلتے ہیں اور انگلینڈ میں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔
عامر کے مطابق ان کی زندگی کا مشکل ترین دور 2010 کے بعد شروع ہوا، لیکن اسی دوران ان کی ملاقات اپنی اہلیہ نرجس سے ہوئی، جو ان کی قانونی ٹیم کا حصہ تھیں۔ عامر انہیں اپنی کرکٹ میں واپسی میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت قرار دیتے ہیں۔آج محمد عامر 34 سال کی عمر میں بھی اپنی سوئنگ اور گیند پر کنٹرول کی وجہ سے خطرناک بولر سمجھے جاتے ہیں۔ مکی آرتھر کے مطابق عامر کی مہارت آج بھی غیر معمولی ہے، اگرچہ ان کی رفتار ماضی جیسی نہیں رہی۔
محمد عامر نے مجموعی طور پر ایک کامیاب کرکٹ کیریئر ضرور بنایا، لیکن ان کی کہانی میں ’’اگر‘‘ آج بھی موجود ہے۔اگر 2010 کا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نہ ہوتا، اگر وہ اپنے کیریئر کے اہم ترین ساڑھے چار سال ضائع نہ کرتے، تو ممکن ہے 2026 میں پاکستان کے لیے 100 سے زائد ٹیسٹ اور 500 وکٹوں کے قریب پہنچنے والے فاسٹ بولر کا ذکر محمد عامر کے نام کے ساتھ ہو رہا ہوتا۔








