بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے جدید آبدوز شکن طیارہ Y-9متعارف کروادیا ۔انتہائی جدید آلات سے لیس یہ طیارہ آبدوزوں کا سراغ لگانے اور انہیں تباہ کرنے مکمل صلاحیت کا حامل ہے ۔
چین کا جدید آبدوز شکن طیارے شاآنشی Y-9کا اپ گریڈ ورژن منظر عام پر آ گیا ۔ چین نے اپنی پانیوں کی حفاظت اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے جدید طیارہ متعارف کروایا ہے ۔
ماہرین کے مطابق Y-9 کا یہ جدید ورژن چین کی بحری فضائی صلاحیتوں میں اہم اضافہ ثابت ہوگا، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنوبی اور مشرقی بحیرہ چین میں علاقائی کشیدگی اور بحری سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق تربیتی پرواز کے دوران سامنے آنے والی تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ نئے Y-9 طیارے میں ناک کے نیچے جدید ایکٹو الیکٹرانکلی اسکینڈ فیزڈ ارے ریڈار نصب کیا گیا ہے، جبکہ دم پر لگایا جانے والا میگنیٹک اینوملی ڈیٹیکٹر بھی نئے ڈیزائن کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔
چینی فوجی ماہر ژانگ جونشے کے مطابق جدید نظام سمندر میں موجود آبدوزوں کے دھاتی ڈھانچے کی وجہ سے زمین کے مقناطیسی میدان میں پیدا ہونے والی معمولی تبدیلیوں کو محسوس کرکے ان کا سراغ لگاتا ہے، جو آبدوز شکن کارروائیوں میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
Y-9 کے نئے ورژن کو خاص طور پر بحیرہ جنوبی چین میں کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے، جہاں ایک ہزار میٹر سے زیادہ گہرے پانی اور پیچیدہ سمندری حالات کے باعث آبدوزوں کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔
اپ گریڈڈ Y-9 میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ رینج، زیادہ جنگی دائرۂ کار، زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت اور طویل دورانیے تک پرواز کی صلاحیت موجود ہے، جس سے اس کی آبدوز شکن صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
طیارے کے دونوں اطراف نصب لانچرز کے ذریعے ایک ہی مشن میں 100 تک سونو بوائز سمندر میں پھینکے جا سکتے ہیں، جو کئی کلومیٹر تک زیرِ آب آوازوں کا جال بچھا کر آبدوزوں کی تلاش اور نگرانی میں مدد دیتے ہیں۔
ژانگ جونشے کے مطابق طیارے نے آپریشنل تربیت کا مرحلہ بھی شروع کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ابتدائی جنگی صلاحیت حاصل کر چکا ہے اور آبدوزوں کی تلاش اور حملے جیسے بنیادی فرائض انجام دینے کے قابل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے
پہلی آپریشنل سرگرمی
رپورٹس کے مطابق اپ گریڈڈ Y-9 کی پہلی نمایاں آپریشنل سرگرمی رواں سال مارچ میں سامنے آئی، جب مشرقی بحیرہ چین میں جاپان کی فضائیہ نے اس طیارے کا راستہ روکا تھا۔
جاپان کی جانب سے جاری تصاویر کے مطابق طیارے کی ناک کے نیچے نمایاں ریڈار ڈوم اور دم پر نصب لمبا MAD سینسر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طیارے میں الیکٹرو آپٹیکل نگرانی کا نظام، سیٹلائٹ کمیونیکیشن (SATCOM) اینٹینا، الیکٹرانک سپورٹ سسٹمز اور میزائل وارننگ سینسرز بھی نصب کیے گئے ہیں، جو اسے جدید بحری نگرانی اور آبدوز شکن مشنز کے لیے مزید مؤثر بناتے ہیں۔












