لاہور( پاک ترک نیوز) مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئیں۔برینٹ خام تیل تقریباً 101 ڈالر جبکہ امریکی خام تیل 93 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا۔لیکن دنیا کی نظریں اب ایک ہی مقام پر ہیں۔۔۔ یہ وہ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس گزرتی ہے۔ یہاں بحری جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں تیل کی رسد کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ہرمز سے اب بھی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزر رہی ہے، تاہم ایران کی جانب سے بحری جہازوں کو خوفزدہ کرنے کے باعث توانائی کی منڈی متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
ایران نے امریکی مؤقف مسترد کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ خود امریکی جنگی اقدامات ہیں۔یعنی واشنگٹن ذمہ داری تہران پر ڈال رہا ہے۔۔۔اور تہران انگلی امریکا کی طرف اٹھا رہا ہے۔مگر اس سیاسی محاذ آرائی کا اثر پوری دنیا پر پڑ رہا ہے۔اگر کشیدگی طویل ہوئی اور ہرمز میں تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوئی تو خام تیل مزید مہنگا ہوسکتا ہے۔اور پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھے گا۔۔۔ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت اور روزمرہ اشیا کی لاگت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
سوال یہ ہے۔۔۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ اگر مزید پھیلی تو تیل سو ڈالر سے آگے کہاں جائے گا۔۔۔ اور پاکستانی عوام کو پٹرول کی قیمت میں کتنی بڑی ضرب برداشت کرنا پڑے گی؟












