اسلام آباد (پاک ترک نیوز ) حکومت نے ایل پی جی کی قلت اور بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے چار سرکاری اداروں کو دوبارہ ایل پی جی درآمد کرنے کی ہدایت کردی، جبکہ آئندہ سال بجلی کی خریداری لاگت میں فی یونٹ 2 سے 4 روپے تک اضافے کا امکان ہے۔وفاقی کابینہ نے ایل پی جی کی فراہمی بہتر بنانے اور مارکیٹ میں مسابقت پیدا کرنے کے لیے نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان ایل این جی، سوئی سدرن گیس ایل پی جی اور پارکو ایل پی جی کو درآمدات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ ادارے سعودی عرب اور عمان سے سرکاری اور کاروباری سطح پر ایل پی جی خرید سکیں گے۔وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ مغربی سرحدوں پر رکاوٹوں کے باعث ایل پی جی کی قلت پیدا ہوئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر مختلف علاقوں میں 700 سے 800 روپے فی کلو تک گیس فروخت کر رہے ہیں، جبکہ نومبر کے لیے اوگرا کی مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ قیمت 295 روپے فی کلو ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرکاری اداروں کے ذریعے سپلائی شروع ہونے کے بعد مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت 450 سے 500 روپے فی کلو تک آنے کی توقع ہے، جبکہ نجی درآمد کنندگان کو بھی کم قیمت پر گیس فراہم کرنے کی اجازت ہوگی۔وزیراعظم کی ہدایت پر مستحق اور کم آمدن والے صارفین کو 300 سے 350 روپے فی کلو کے حساب سے ایل پی جی فراہم کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ اس کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کا ڈیٹا استعمال کیا جائے گا۔دوسری جانب بجلی صارفین کے لیے بھی تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ نیپرا میں سال 2027 کے لیے بجلی کی خریداری قیمت کے تعین پر سماعت ہوئی، جس میں چھ مختلف منظرنامے پیش کیے گئے۔بنیادی منظرنامے کے تحت بجلی کی خریداری قیمت 25 روپے 32 پیسے سے بڑھ کر 27 روپے 31 پیسے فی یونٹ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ 7 فروری 2027 کو کرانے کا اعلان
بدترین منظرنامے میں یہ قیمت 28 روپے 84 پیسے سے بڑھ کر 29 روپے 26 پیسے فی یونٹ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ بہترین منظرنامے میں 25 روپے 88 پیسے فی یونٹ رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔بجلی کی خریداری لاگت میں اضافے کے مختلف تخمینے 56 پیسے سے 3 روپے 94 پیسے فی یونٹ تک ہیں۔ تاہم ان قیمتوں میں ٹیکس اور دیگر چارجز شامل نہیں ہیں۔
صنعتی صارفین نے اضافی سرکاری اداروں کے قیام اور بھاری تنخواہوں پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ نیپرا نے سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جو ریکارڈ اور فریقین کے مؤقف کا جائزہ لینے کے بعد جاری کیا جائے گا۔












