واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) آپ کے ساتھ ہونا میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ ایسٹر مبارک، ہم نے ایک شاندار ایسٹر منایا، یہ ہمارے بہترین ایسٹرز میں سے ایک تھا۔گڈ آفٹرنون، آج ہمارے پاس بات کرنے کے لیے کافی کچھ ہے۔ ہم آج یہاں ایک ایسے مشن کی کامیابی کا جشن منانے کے لیے جمع ہوئے ہیں جو تاریخ کے سب سے بڑے، سب سے پیچیدہ اور سب سے خطرناک سرچ اینڈ ریسکیو مشنز میں سے ایک تھا۔
عام طور پر جب جنگ میں طیارے گر جاتے ہیں، خاص طور پر جب آپ کسی طاقتور اور خطرناک دشمن کے خلاف لڑ رہے ہوں، تو ایسے مشنز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایک شخص کو بچانے کے لیے 200 افراد کو بھیجنا پڑتا ہے، اور یہ ایسا کام ہے جو عام طور پر نہیں کیا جاتا، چاہے آپ کتنا ہی کرنا چاہیں۔
ایسے مشنز میں ایک یا دو افراد کو بچانے کی کوشش میں بڑے نقصانات کا خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن اس کیس میں ہم نے یہ قدم اٹھایا، اور شاید پہلے کبھی ایسا نہ کیا گیا ہو، مگر ہم نے کیا۔ ہمارے پاس بہترین صلاحیت رکھنے والے لوگ تھے، اور میں یہ بھی کہوں گا کہ ہمیں تھوڑی سی قسمت کا ساتھ بھی ملا، اور بہت سے عظیم لوگوں نے ہماری مدد کی۔
یہ ایک ایسا ریسکیو آپریشن ہے جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جمعرات کی رات دیر گئے ایک امریکی ایف-15 لڑاکا طیارہ ایران کے اندر دشمن کے علاقے میں گر گیا، جب وہ ایک آپریشن میں حصہ لے رہا تھا۔
اس آپریشن کا نام “ایپک فیوری” ہے، جس میں ہم غیر معمولی کامیابی حاصل کر رہے ہیں، ایسی سطح پر جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، پورا ملک اس کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
جہاز کے عملے کے دونوں ارکان نے ایجیکٹ کیا اور ایرانی سرزمین پر زندہ اُترے۔ مجھے فوراً فیصلہ کرنے کے لیے کہا گیا۔ میں نے امریکی مسلح افواج کو حکم دیا کہ ہمارے بہادر اہلکاروں کو واپس لانے کے لیے جو بھی ضروری ہو، کیا جائے۔ یہ ایک خطرناک فیصلہ تھا کیونکہ اس سے ایک یا دو کے بجائے سو ہلاکتیں بھی ہو سکتی تھیں۔
یہ ایک مشکل فیصلہ ہوتا ہے، لیکن امریکی فوج میں ہم اپنے کسی بھی آدمی کو پیچھے نہیں چھوڑتے۔ ہم ایسا نہیں کرتے۔ چند گھنٹوں کے اندر ہماری افواج نے 21 فوجی طیارے دشمن کی فضائی حدود میں بھیج دیے۔ ان میں سے کئی انتہائی نچلی پرواز کر رہے تھے اور ان پر گولیوں کی بارش ہو رہی تھی۔ جب آپ اتنی نچلی پرواز کرتے ہیں تو رائفلیں بھی مؤثر ہو جاتی ہیں، لیکن اس کے کچھ فائدے بھی ہوتے ہیں۔
ایران کے اوپر دن کی روشنی میں سات گھنٹے تک پرواز کی گئی اور شدید فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمارے ایک ہیلی کاپٹر میں بے شمار گولیاں لگی تھیں، یہ حیران کن ہے۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ ہماری مشینری کتنی طاقتور ہے۔ دنیا میں کسی کے پاس ایسا سازوسامان نہیں اور نہ ہی ایسی فوج ہے۔ ہم دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہیں۔
ریسکیو ٹیم نے ایف-15 کے پائلٹ کو تلاش کر لیا اور اسے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکال لیا گیا۔ اس دوران قریب سے فائرنگ ہو رہی تھی، مگر حیرت انگیز طور پر کوئی زخمی نہیں ہوا۔
دوسرا اہلکار، جو ایک سینئر افسر تھا، کافی فاصلے پر جا گرا اور شدید زخمی تھا۔ وہ پہاڑوں میں چھپ گیا اور اپنی تربیت کے مطابق بلندی کی طرف بڑھتا رہا تاکہ گرفتاری سے بچ سکے۔ اس نے خود اپنی مرہم پٹی کی اور امریکی افواج کو اپنی لوکیشن بھیجی۔
اسے بچانے کے لیے ایک بڑا آپریشن شروع کیا گیا ، جس میں 155 طیارے شامل تھے۔ دشمن کو دھوکا دینے کے لیے مختلف مقامات پر سرگرمیاں دکھائی گئیں۔ بالآخر امریکی فوج نے اصل مقام پر کارروائی کی، اہلکار کو بچایا اور تمام خطرات ختم کرکے بغیر کسی نقصان کے واپس نکل آئی۔
یہ افسر تقریباً 48 گھنٹے تک ایران میں چھپا رہا۔ واپسی پر بھاری طیارے ریت میں پھنس گئے، اس لیے متبادل منصوبہ استعمال کیا گیا۔ ہلکے طیارے آئے، اہلکاروں کو نکالا گیا اور پرانے طیارے تباہ کر دیے گئے تاکہ حساس ٹیکنالوجی دشمن کے ہاتھ نہ لگے۔
ہیلی کاپٹروں کو چند منٹوں میں دوبارہ تیار کیا گیا، جو ایک حیران کن کارنامہ تھا۔ یہ سب اس بات کی مثال ہے کہ امریکی فوجی ناصرف بہادر بلکہ غیر معمولی مہارت اور ذہانت کے حامل ہیں۔
اگر آپ دیکھیں کہ ہم نے نکولس مادورو کے ساتھ کیا کیا، تو ہم ایک فوجی کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے، جو ہزاروں فوجیوں پر مشتمل ایک بہت بڑا مرکز تھا۔ وہ لوہے کے دروازوں کے پیچھے رہتا تھا، مگر ہم نے وہ اسٹیل کے دروازے انتہائی تیزی سے توڑ دیے اور چند ہی منٹوں میں وہ ہمارے طیاروں کے پیچھے موجود تھا۔ یہ ایک ملتا جلتا گروپ تھا۔ حیرت انگیز۔ ہمارے پاس انتہائی باصلاحیت لوگ ہیں۔
جب وقت آتا ہے تو ہم اپنے لوگوں کو بحفاظت واپس لانے کے لیے زمین و آسمان ایک کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کو ہر حال میں واپس لاتے ہیں۔ میں امریکی مسلح افواج کے ہر اس رُکن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ان تاریخی آپریشنز میں شامل تھے۔ یہ واقعی تاریخی تھے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کیوں نہیں کیا جاتا۔ ایسا نہیں کہ لوگ کرنا نہیں چاہتے، لیکن جب آپ ایسے علاقوں میں جاتے ہیں، جب آپ ان ہیلی کاپٹروں کو دیکھتے ہیں، ان پر لگنے والی گولیوں کی تعداد کو دیکھتے ہیں، تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں سے زندہ نکلنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
لیکن ہم جس طرح باہر آئے، وہ غیر معمولی تھا۔ خدا ہماری حفاظت کر رہا تھا۔ شاید ایسٹر کا وقت تھا، خدا ہمارے ساتھ تھا۔ جب آپ مشینری کو دیکھتے ہیں، وہ نقصان برداشت کرنے کے باوجود واپس آ گئی۔ میری پہلی بات یہی تھی کہ یہ مشینیں ناقابلِ یقین ہیں۔
یہ دو غیر معمولی ریسکیو آپریشن تھے۔ ہم نے پہلے والے کے بارے میں کچھ دیر تک بات نہیں کی، مگر پھر کسی نے معلومات لیک کر دیں۔ ہم اس لیک کرنے والے کو تلاش کر رہے ہیں۔ اس نے یہ بات پھیلائی کہ ایک اہلکار مل گیا ہے اور دوسرا لاپتہ ہے، جبکہ حقیقت میں کسی کو معلوم ہی نہیں تھا۔
ہم اس میڈیا ادارے تک جائیں گے اور کہیں گے کہ قومی سلامتی کے تحت معلومات دیں، ورنہ جیل جائیں۔ کیونکہ اس لیک کے بعد پورے ایران کو معلوم ہو گیا کہ ایک پائلٹ ان کی زمین پر موجود ہے اور اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے ریسکیو مشن مزید مشکل ہو گیا۔
ایران نے اعلان بھی کیا کہ جو کوئی اس پائلٹ کو پکڑے گا اسے بڑا انعام دیا جائے گا۔ اب ہمیں نہ صرف ایک دشمن فوج بلکہ لاکھوں لوگوں کا سامنا تھا جو انعام کے لیے اسے تلاش کر رہے تھے۔
گذشتہ 37 دنوں میں امریکہ نے ایران کے اوپر 10 ہزار سے زائد جنگی پروازیں کیں اور 13 ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ ایک بے مثال ریکارڈ ہے۔ گزشتہ ہفتے گرنے والا ایف-15 اس پورے آپریشن میں پہلا طیارہ تھا جو دشمن نے گرایا۔
آخر میں، جب ہم ایک کھیت میں بغیر رن وے کے کھڑے تھے، جہاں گیلی ریت طیاروں کو دھنسا دیتی ہے، ہم انتظار کر رہے تھے۔ پھر اچانک طیارے ایک کے بعد ایک تیزی سے آئے اور سب کو نکال لیا۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔
آخر میں، جب ہم ایک کھیت میں بغیر رن وے کے کھڑے تھے، جہاں گیلی ریت طیاروں کو دھنسا دیتی ہے، ہم انتظار کر رہے تھے۔ پھر اچانک طیارے ایک کے بعد ایک تیزی سے آئے اور سب کو نکال لیا۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔
میں ان تمام لوگوں پر فخر کرتا ہوں جنہوں نے یہ کام انجام دیا۔ اب میں John Ratcliffe، ” جان ریٹکلف ” سی آئی اے کے سربراہ کو متعارف کروانا چاہتا ہوں، جنہوں نے اس مشن میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایسا کام تھا جیسے بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنا۔
ایران کو ایک رات میں ہی ختم کیا جا سکتا ہے اور وہ رات منگل کی رات بھی ہوسکتی ہے۔ ایران جنگ بندی کرنا چاہے گا کیونکہ ان کا خاتمہ ہو رہا ہے، تنازع ختم کرنے کے لیے ایران کو کئی مواقع دیے جو انہوں نے ٹھکرادیے۔ ایران کے ساتھ بات چیت میں اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کُشنر اور جے ڈی وینس شامل ہیں، ہم نے رجیم کی تبدیلی کر لی ہے اور اب وہاں اعتدال پسند لوگ ہیں۔ امید ہے کہ ایران جنگ جلد ختم ہوجائے، ہم ابھی وہاں سے نکل سکتے ہیں لیکن میں اسے ختم کرنا چاہتا ہوں، ایران کی دی گئی تجاویز اہم لیکن بہت اچھی نہیں ہیں۔












