تہران ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کی آگ کی لپیٹ میں آ گیا ، امریکا نے ایران پر مسلسل دوسرے روز بھی خوفناک فضائی حملے کر دیئے ، ایران نے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا دیا ۔ ایران نے واضح کر دیا کہ دھمکیوں کے آگے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ کیا خطہ ایک نئی اور بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے؟ دیکھیے یہ خصوصی رپورٹ۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی آگ مزید بڑھنے لگی ، امریکا نے مسلسل دوسرے روز ایران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے، جن میں سریک، چاہ بہار، بندر عباس، کونارک اور ابو موسیٰ شامل ہیں۔
حملوں کے بعد چاہ بہار کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، جبکہ امام علی اسپتال پر پروجیکٹائل کا ایک ٹکڑا گرنے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔ میری ٹائم ٹریفک کنٹرول ٹاور اور ایک ڈپو بھی حملوں کی زد میں آئے، جبکہ صوبہ بوشہر میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایرانشہر ایئرپورٹ پر حملے میں ایک فائر فائٹر جان کی بازی ہار گیا۔ امریکی فضائی کارروائی میں صوبہ گلستان کے ایک ریلوے پل کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم ایرانی حکام کے مطابق بوشہر کا ایٹمی بجلی گھر محفوظ رہا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کام، نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر کی گئیں۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے بھی فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت میں دو اور بحرین میں ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حملوں کے بعد دونوں ممالک میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ خطے میں موجود دیگر امریکی اڈے بھی ان کی پہنچ میں ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مزید حملے کیے گئے تو امریکا بیس گنا زیادہ طاقت سے جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بحری جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں ایران کو نشانہ بنایا گیا، اور اگر ایسا دوبارہ ہوا تو نتائج کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن تہران کی نیت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق امریکا کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، جبکہ خارگ جزیرے پر قبضے کا امکان بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے مزید حملے کیے تو بیس گنا زیادہ طاقت سے کارروائی کرینگے،ٹرمپ
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کھلنے اور بحری جہازوں پر حملے بند ہونے تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایران نے امریکی دھمکیوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکی دباؤ یا دھمکیوں سے نہیں بلکہ ایران کی خودمختاری اور قومی مفادات کے مطابق کھلے گی۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں اور بلیک میلنگ کا دور ختم ہو چکا ہے اور ایرانی قوم ہر محاذ پر مقابلے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران بدزبانی کا جواب بدزبانی سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توہین آمیز زبان ایرانی قوم کے حوصلے اور وقار کو کمزور نہیں کر سکتی۔
دوسری جانب قطر اور چین نے خطے میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کی۔ قطر نے ایران کے کویت اور بحرین پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو ایسے حملوں کے خطرناک نتائج سے محفوظ رکھنا ضروری ہے، جبکہ چین نے خبردار کیا کہ جنگ کو دوبارہ بھڑکانا کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔












