تہران:(پاک ترک نیوز) کیا امریکا اور ایران کی جنگ منسوخ ہو چکی ہے؟ کیا یہ جنگ اب نہیں ہوگی؟ سب کے ذہنوں میں یہی ایک سوال ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ جنگ منسوخ نہیں ہوئی، اس کی تیاری جاری ہے۔ صرف وقتی سکوت ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی اچھائیاں بیان کر رہے ہیں لیکن دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ہم امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایران کے اندر اتنا اعتماد کیسے آیا؟ کہ وہ امریکا جیسی طاقت کے ساتھ ٹکر لینے کو تیار ہو چکا ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔
اس جنگ میں ایک طرف جدید جنگی طیاروں اور خطرناک اسلحے سے لیس امریکا کے بحری بیڑے ہیں ۔ تو دوسری جانب ایرانیوں کا اعلان جنگ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقتی سکوت کے دوران ایران نے تمام جنگی ریہرسل کرتے ہوئے امریکی اسلحے کو ٹیسٹ کر لیا ہے۔
امریکا کی سب سے بڑی طاقت ریڈارز کو اندھا کرکے حملہ کرنا تھا لیکن ایران نے اس کا چینی ٹیکنالوجی سے توڑ نکال لیا ہے۔ جی ہاں، چین نے ایران کو ایسا اسلحہ بھیجا ہے، جس میں ناصرف ڈرونز بلکہ میزائل بھی شامل ہیں۔
ایران کے پاس کوئی ایئر فورس نہیں۔ لیکن ایرانی کشتیوں سے ایسے چینی میزائل فائر ہوں گے جن کا نظارہ دنیا نے جنگ مئی میں دیکھا تھا۔
دفاعی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ چین کا جدید ہائپر سونک میزائل ہے۔ جس کی اسپیڈ اور رینج کا دنیا میں ابھی تک کوئی توڑ نہیں ہے۔
اس کے علاوہ ایران نے اپنے ملک کے اردگرد آگ کی ایک دیوار "فائر وال ” بنا لی ہے۔ جس سے امریکا اب ایران میں کچھ بھی جیم نہیں کر سکے گا۔ کیونکہ چین نے امریکی ایواکس کا مقابلہ کرنے کیلئے ایران کو کے جے فائیو ہنڈرڈ دے دیا ہے۔












