واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بری فوج کے چار افسران کی ون اسٹار رینک پر ترقی روک دی ہے۔ امریکی دفاعی حکام کے مطابق یہ اقدام غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے اور بظاہر ایسے افسران کو نشانہ بنایا گیا ہے جو ان جرنیلوں کے ساتھ کام کرچکے ہیں جنہیں ہیگسیتھ ناپسند کرتے تھے۔رپورٹ کے مطابق رواں سال پیٹ ہیگسیتھ اب تک کم از کم 45 افسران کو ترقی کی فہرستوں سے ہٹا چکے ہیں۔ ان افسران کا انتخاب ساتھی افسران پر مشتمل بورڈز نے میرٹ کی بنیاد پر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک کاٹن ٹی شرٹ کی تیاری میں 2700 لیٹر پانی خرچ
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترقی سے روکے جانے والے افسران میں سے نصف سے زیادہ خواتین یا سیاہ فام ہیں، جبکہ ہیگسیتھ کے اقدامات ایسے نظام کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کا مقصد فوج میں ترقی کے عمل کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک اور میرٹ پر مبنی رکھنا ہے۔حکام کے مطابق تازہ فہرست سے ہٹائے گئے بعض افسران نے سابق امریکی آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کے ساتھ کام کیا تھا، جنہیں پیٹ ہیگسیتھ نے رواں سال اپریل میں بغیر واضح وجہ بتائے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔دیگر افسران کے تعلقات جنرل کرسٹوفر ٹی ڈوناہو سے بتائے گئے ہیں، جو یورپ میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر رہ چکے ہیں اور رواں موسم گرما میں انہیں بھی فوج چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
عام طور پر امریکی بری فوج میں ون اسٹار ترقی کی فہرست میں تقریباً 30 سے 35 افسران شامل ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنرل رینڈی جارج اور جنرل ڈوناہو نے مستقبل کی جنگ میں ڈرونز اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کے پیش نظر امریکی فوج کو جدید بنانے کی کوششوں کی قیادت کی تھی۔ترقی سے روکے گئے ایک افسر نے فوج کی ابتدائی ’’ٹرانسفارمیشن اِن کانٹیکٹ‘‘ بریگیڈز میں سے ایک کی کمان بھی کی تھی۔ تقریباً 3 ہزار فوجیوں پر مشتمل ان یونٹس کو جنگی تربیت کے ساتھ ساتھ ڈرونز اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی آزمانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔











