واشنگٹن (پاک ترک نیوز )امریکی میرین کور کے ہیریئر پائلٹس کو جدید ایف 35 بی طیارے پر منتقلی کے بعد پرانی پرواز کی کئی مہارتیں دوبارہ سیکھنا پڑ رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہیریئر کو بحری جہاز پر اتارتے وقت پائلٹس کو سمت، تھروٹل اور انجن نوزل سمیت متعدد کنٹرولز خود سنبھالنا پڑتے تھے۔ہیریئر پائلٹس جہاز کو لینڈنگ پیڈ کے اوپر معلق رکھنے کے لیے مسلسل چھوٹی چھوٹی درستگیاں کرتے تھے، تاہم ایف 35 بی میں جدید کمپیوٹرائزڈ فلائٹ کنٹرول سسٹم زیادہ تر یہ کام خود انجام دیتا ہے۔
میرین فائٹر اٹیک اسکواڈرن 211 کے میجر ٹریوس تھیمر کے مطابق سابق ہیریئر پائلٹس ایف 35 بی کی پہلی لینڈنگ کے دوران پرانی عادت کے تحت طیارے کی رفتار کم کرنے کے لیے کنٹرولز استعمال کرتے ہیں، جس سے طیارہ مزید تیز ہوکر اوپر اٹھ سکتا ہے۔ایف 35 بی بھی ہیریئر کی طرح عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم جدید کمپیوٹر سسٹم پائلٹ کو بحری جہاز پر لینڈنگ کے دوران نمایاں مدد فراہم کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایف 35 بی ہیریئر کے مقابلے میں زیادہ وسیع جنگی صلاحیتیں رکھتا ہے، جن میں فضائی لڑائی، دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانا اور دیگر طیاروں و زمینی فورسز کے ساتھ معلومات کا تبادلہ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ایف 35 جنگی طیارے کی قیمت 12 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی
امریکی میرین کور نے رواں سال اپنی آخری فعال ہیریئر اسکواڈرن بھی ریٹائر کردی ہے، جس کے بعد متعدد پائلٹس ایف 35 بی پر منتقل ہوگئے ہیں۔












