تہران ( پاک ترک نیوز) امریکہ، ایران کشیدگی میں نئی شدت، حملوں کا دائرہ وسیع ہو گیا۔مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ۔ امریکی فضائی حملوں، ایرانی جوابی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے۔
امریکی فوج نے ایران کے مختلف علاقوں میں حملوں کی نئی لہر مکمل کرنے کا اعلان کر دیا۔ امریکی کارروائیوں میں سیریک، اہواز، چاہ بہار، بندرعباس، قشم جزیرہ اور دیگر مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایرانی حکام کے مطابق سمنان ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ اہواز میں عراقی سرحد کے قریب زور دار دھماکے سنے گئے۔
امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران ایرانی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کے مراکز سمیت ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام نے امریکی حملوں میں تیس شہریوں اور سات فوجیوں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور مناسب وقت پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اردن کی الازرق ایئربیس پر امریکی مواصلاتی نظام اور مستقل ریڈار سائٹ کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کویت میں السالم ایئربیس پر میزائل اور ڈرون حملوں کا بھی دعویٰ کیا جبکہ ایران نے ایک امریکی ایم کیو نائن ڈرون مار گرانے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پر اظہارتشویش
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کو ممکنہ زمینی فوجی کارروائی سمیت مختلف عسکری منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔
امریکی حکام کے مطابق ایرانی جزائر، جن میں خارک جزیرہ بھی شامل ہے، سے متعلق مختلف آپشنز زیر غور آئے، تاہم صدر ٹرمپ نے ابھی زمینی فوج بھیجنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاملہ طے کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد معلوم ہو جائے گا کہ تہران سمجھوتہ کرتا ہے یا معاملہ کسی اور سمت جاتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اس وقت بہتر پوزیشن میں ہے، ایران موجودہ حالات سے مطمئن نہیں، اور ان کے بقول ایران کے خلاف سخت اقدامات کئی دہائیاں پہلے ہی کیے جانے چاہییں تھے۔
دوسری طرف ایران نے اقتصادی محاذ پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی برآمدات روکنے کی دھمکی دے دی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والے راستے کھلے رہے تو ایران تمام برآمدی راستے بند کر دے گا۔
ایرانی مؤقف کے مطابق یا تو توانائی کی برآمدات سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے نہیں، جبکہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایران کے قانونی نظامِ حکومت کو تسلیم نہیں کرتا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً چھیاسی ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت بھی اسی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات مزید متاثر ہوئیں تو برینٹ خام تیل ایک سو دس ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر جا سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں پر مرتب ہوں گے۔
امریکی حملے، ایرانی جوابی کارروائیاں، زمینی جنگ کے امکانات، آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکیاں اور تیل کی بڑھتی قیمتیں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے بھی بڑے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔












