اسلام آباد (پاک ترک نیوز )پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم امریکی اقدامات سفارتی پیش رفت میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
ایرانی سفیر کے مطابق پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو پیغام دیا گیا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم ہونے پر ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے ناکہ بندی برقرار رکھنے پر اصرار کرتے ہوئے یہ تجویز مسترد کردی۔
رضا امیری مقدم نے بتایا کہ جون میں پاکستان اور قطر کی معاونت سے طے پانے والے عبوری معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر وسیع مذاکرات شروع کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران بھی ایرانی حکام نے امریکی ناکہ بندی ختم ہونے کی شرط پر آبنائے ہرمز کھولنے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ایران معاہدے کا جائزہ لینے کے بعد اس کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گا۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد علاقائی امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔











