واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی بینک کیپیٹل ون نے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس نے ٹرمپ آرگنائزیشن کے بینک اکاؤنٹس سیاسی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ منی لانڈرنگ سے متعلق ضوابط کے تحت ہونے والے تفصیلی جائزے کے بعد بند کیے تھے۔
بینک نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ ٹرمپ آرگنائزیشن کے 300 سے زائد اکاؤنٹس بند کرنے کا فیصلہ کئی ماہ تک جاری رہنے والے جائزے اور بینک کی انسدادِ منی لانڈرنگ ٹیم کی سفارشات کے مطابق کیا گیا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق اکاؤنٹس بند کرنے کا نوٹس مارچ 2021 میں جاری کیا گیا تھا۔
دوسری جانب ٹرمپ آرگنائزیشن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صاحبزادے ایرک ٹرمپ نے مارچ 2025 میں فلوریڈا کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بینک نے سیاسی تعصب اور 6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی فضا سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کے اکاؤنٹس بند کیے۔
کیپیٹل ون نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی تعصب کا دعویٰ بے بنیاد ہے اور مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
بینک کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹس میں بعض مالی لین دین ایسے تھے جو وفاقی بینکاری رہنما اصولوں کے مطابق مزید جانچ کے متقاضی تھے، اسی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ایرانی شہر قشم کی شہری آبادی پر 2000 پاؤنڈ وزنی بم سے حملہ، نیویارک ٹائمز کا انکشاف
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی دوسری صدارتی مدت کے دوران بڑے بینکوں پر قدامت پسند حلقوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ اگست 2025 میں انہوں نے ایسے امتیازی اقدامات کی روک تھام کے لیے ایک صدارتی حکم نامہ بھی جاری کیا تھا۔
کیپیٹل ون نے تاہم ٹرمپ آرگنائزیشن پر منی لانڈرنگ کا براہ راست الزام عائد نہیں کیا بلکہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اکاؤنٹس کی بندش بینک کی داخلی پالیسی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق کی گئی۔












