واشنگٹن (پاک ترک نیوز) امریکی فوج نے ایران کے لارک جزیرے پر فضائی حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ایرانی اہلکاروں اور عام شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔امریکی حکام کے مطابق حملے میں دو ایرانی میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگوں کے ساتھ راکٹ داغنے کی تیاری کر رہا تھا۔دوسری جانب ایران نے اردن میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی حکام کے مطابق ایرانی میزائل کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی نے امریکا کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائی کا جواب لازمی دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کی قوتِ ارادی آزمانے کی کوشش امریکا کے لیے مہنگی ثابت ہوگی، جبکہ امریکا اور اسرائیل کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ابراہیم عزیزی کے مطابق ایران تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز جواب دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کی اے آئی ویڈیو شیئر کر دی
دوسری جانب پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے بھی امریکی حملے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جزیرہ لارک پر حملے کے نتائج امریکا کو اقتصادی اور عسکری محاذوں پر بھگتنا ہوں گے۔حسین محبی کے مطابق نام نہاد اقتصادی جنگ کے دوران یہ حملہ ایک مہلک اسٹریٹجک غلطی ہے اور امریکی اقدام خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دے گا۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے خبردار کیا کہ امریکا کو اس کارروائی کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔












