تہران ( پاک ترک نیوز) امریکا اور تہران میں پھر ٹھن گئی، جوہری پروگرام پر اختلافات گہرے ہونے لگے ، ، ایران نے افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار کردیا ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے مسترد کر دیئے گئے ۔
ایرانی کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی کا کہناہے تہران افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر بھیجنے کی کسی بھی تجویز کو قبول نہیں کرے گا ۔ نہ ہی اس حوالے سے اب تک کوئی وعدہ کیا گیا۔ یورینیم افزودگی کو صفر کرنے کی بات قبول نہیں ۔یہ ملک کی اسٹریٹجک ریڈ لائن ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن ایران سے “نیوکلیئر ڈسٹ” حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ اس کے پروگرام کی نگرانی کی جا سکے۔
ایران کا جوہری پروگرام طویل عرصے سے عالمی تنازع کا مرکز رہا ہے،ماہرین کے مطابق حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو سکتا ہے ،خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے ۔عالمی طاقتیں نئے سفارتی دباؤ یا پابندیوں پر غور کر سکتی ہیں ۔
اگر امریکا اور اریان کے اختلافات مزید بڑھتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال خراب ہو سکتی ہے ،تیل کی عالمی منڈی متاثر ہو سکتی ہے ،پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک پر سفارتی دباؤ بڑھ سکتا ہے ۔
ایران اپنے جوہری پروگرام کو خودمختاری کا مسئلہ قرار دے رہا ہے، جبکہ امریکا اسے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تنازع سفارتکاری سے حل ہوگا یا ایک بار پھر دنیا کسی بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟












