واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگ کے دوران بدلتے بیانات سے دنیا حیران ہو گئی ،کبھی کہتے ہیں "آج رات حملہ ہوگا”… پھر چند گھنٹوں بعد اعلان کرتے ہیں "حملہ مؤخر کر دیا”۔کبھی ایران کو "جہنم” کی دھمکی… تو کبھی کہتے ہیں **”معاہدہ کرنا جنگ سے بہتر ہے”۔ ۔ آخر ٹرمپ کی حکمت عملی کیا ہے؟ دباؤ، سفارت کاری یا دونوں کا امتزاج؟ دیکھیے یہ رپورٹ۔
28 فروری کو شروع ہونے والے بحران کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں بار بار تبدیلی دیکھی گئی۔ کبھی وہ ایران کی فوجی طاقت ختم کرنے کا دعویٰ کرتے نظر آئے، کبھی جنگ کے خاتمے کی بات کی، اور کبھی حملوں کی تاریخیں آگے بڑھا دیں۔
اکیس مارچ کو ٹرمپ نے ایران کو صرف اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو امریکا ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنائے گا۔ اس بیان پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا کیونکہ شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
لیکن صرف دو روز بعد منظر بدل گیا۔ ٹرمپ نے مہلت میں مزید پانچ دن کی توسیع کر دی اور کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت مثبت رہی ہے۔ بعد ازاں حملے مزید دس دن مؤخر کرتے ہوئے نئی تاریخ چھ اپریل مقرر کر دی گئی۔
پانچ اپریل کو ایک بار پھر سخت لہجہ اپنایا گیا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مطالبات نہ مانے تو اسے "جہنم” کا سامنا کرنا ہوگا۔ صرف دو دن بعد انہوں نے کہا کہ "ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی”، جسے مبصرین نے انتہائی سنگین دھمکی قرار دیا۔
تاہم اسی روز چند گھنٹوں بعد ایک اور حیران کن موڑ آیا۔ مختلف ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل تھا، کی سفارتی کوششوں کے بعد ٹرمپ نے دو ہفتوں کے لیے حملے روکنے اور جنگ بندی کی تجویز قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔
گیارہ جون کو ایک مرتبہ پھر ٹرمپ نے ایران پر سخت حملوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی، لیکن چند ہی گھنٹوں بعد یہ کارروائی بھی منسوخ کر دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور معاہدے کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی وزیر دفاع کا دورہ امریکا ،اہم شخصیات سے ملاقاتیں
اگرچہ جون میں ایک عبوری معاہدہ طے پا گیا، لیکن صرف ایک ماہ بعد کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔ ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکا نے ایرانی ساحلی دفاعی نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے۔
اکتیس جولائی کو ٹرمپ نے دوبارہ سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو ایسا جواب دے گا کہ وہ مزید برداشت نہیں کر سکے گا، مگر صرف ایک دن بعد یکم اگست کو انہوں نے اعلان کیا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک نے حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے اور ممکنہ معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔
ایران کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی گزشتہ چند ماہ میں مسلسل بدلتی رہی۔ ایک طرف سخت دھمکیاں، دوسری طرف مذاکرات کی بات، کبھی جنگ کی تیاری تو کبھی امن کی امید۔ اب دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ بیانات مستقل امن کی طرف قدم ہیں یا ایک نئے بحران سے پہلے کی خاموشی۔












