
از: سہیل شہریار
پاکستان نے قومی ڈیجیٹل کرنسی کی آزمائش کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔اوراسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ اس کا سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) منصوبہ آزمائشی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آنے والی ڈیجیٹل کرنسی لوگوں کو ر وایتی نقدی یا یہاں تک کہ بینک اکاؤنٹ کے بغیر لین دین کے قابل بنائے گی۔ جس سے ملک بھر میں مالی شمولیت کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔
اسٹیٹ بینک ڈیجیٹل کرنسی کو ریگولیٹ اور مانیٹر کرنے کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کر رہا ہے۔ پائلٹ لانچ سے پہلے تمام متعلقہ اصولوں اور رہنما خطوط کو حتمی شکل دی جائے گی تاکہ عمل درآمد اور نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
https://www.youtube.com/watch?v=wltRuAL_6HU
اس پروجیکٹ کو روزمرہ کی ادائیگیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جس سے صارفین موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے تیزی اور محفوظ طریقے سے رقم منتقل کر سکتے ہیں۔
اس ضمن میں آزمایش کے مرحلے سے گزر رہےڈیجیٹل والیٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس کے لئےاسٹیٹ بینک یا لائسنس یافتہ مالیاتی ادارے صارفین کو موبائل والیٹ ایپ فراہم کریں گے۔ٹرانزیکشنز پر فوری طور پر QR کوڈز کے ذریعے کارروائی کی جائے گی۔رجسٹریشن قومی شناختی کارڈ کے ذریعے مکمل کی جائے گی۔وصول کنندہ کا فون نمبر درج کرکے رقم منتقل کی جاسکےگی۔حکومت سے متعلقہ ادائیگیاں، جیسے ٹیکس اور فیسز، بھی والیٹکے ذریعے قابل ادائیگی ہوں گی۔
اس نظام کا مقصد نقد پر مبنی لین دین کے لیے ایک محفوظ، سادہ اور کاغذ کے بغیر متبادل فراہم کرنا ہے۔
پاکستان ڈیجیٹل کرنسی کی تلاش میں اکیلا ملک نہیں ہے۔ نائیجیریا نے پہلے ہی مکمل طور پر آپریشنل سی بی ڈی سی شروع کر دیا ہے۔ جبکہ چین، روس اور متحدہ عرب امارات اپنی ڈیجیٹل کرنسیوں کی جانچ کے لیے پائلٹ پروگرام چلا رہے ہیں۔












