لندن ( پاک ترک نیوز) برطانوی فوج کے ڈرون نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے مرکز برائے بغیر پائلٹ نظام کو اہم ذمہ داری سونپ دی گئی، مختلف اقسام کے ڈرونز کو مشترکہ رابطہ نظام سے منسلک کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئیں۔برطانیہ میں فوجی ڈرونز کی خریداری، رابطے اور عملی استعمال میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے مرکز برائے بغیر پائلٹ نظام اہم کردار ادا کرے گا۔
لندن میں ہونے والی اپیکس یورپ کانفرنس کے دوران فوجی ہوا بازی کے ادارے کے سربراہ برائے ضابطہ کاری و توثیق کموڈور نیل میتھیسن نے بتایا کہ ایک نئے تعینات ہونے والے سینئر فوجی افسر نے اس مرکز کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔نیل میتھیسن کے مطابق، اس مرکز کا مقصد ایسی ڈرون ٹیکنالوجی اور رابطہ نظام خریدنا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ برطانوی فوج کی مختلف رجمنٹس اس وقت چار سے پانچ اقسام کے ڈرون استعمال کر رہی ہیں، لیکن یہ تمام نظام ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ نہیں کر پاتے۔ جب مختلف رجمنٹس بریگیڈ اور پھر ڈویژن کی سطح پر اکٹھی ہوتی ہیں تو سینکڑوں ڈرونز کو مربوط انداز میں چلانا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کے مطابق فوجی حکمت عملی اور پالیسیوں میں ابھی مکمل ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکی۔نیل میتھیسن نے اس ضرورت پر بھی زور دیا کہ برطانوی بحریہ اور فضائیہ کے بغیر پائلٹ لڑاکا طیارے اور دیگر خودکار نظام ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور یو اے ای میں ریلوے رابطوں اور بجلی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا معاہدہ
ان کے مطابق، مختلف کمپنیوں کی جانب سے نئے نظام متعارف کرانے کے دوران ان کی تیاری، نگرانی اور عملی استعمال کے طریقۂ کار کو بھی واضح کرنا ضروری ہے۔جرمن مسلح افواج کی سائبر اور معلوماتی شعبے کی سروس سے وابستہ کرنل تھامس ایرلن بروخ نے بھی مشترکہ رابطہ نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ مختلف خودکار نظاموں سے حاصل ہونے والی معلومات کو ایک مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام میں جمع کرنا ضروری ہے، تاکہ ان نظاموں کو ہدایات دی جا سکیں اور ہدف سے متعلق معلومات کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔












