برلن ( پاک ترک نیوز) جرمنی نے امریکی کمپنی بوئنگ کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اس کے جدید بغیر پائلٹ جنگی طیارے ’’ایم کیو 28 گھوسٹ بیٹ‘‘ کی براہِ راست خریداری نہیں کرے گا۔ برلن نے اپنے مستقبل کے فضائی جنگی نظام کی خریداری سے متعلق منصوبے میں تبدیلی کر دی ہے، جس سے یورپ میں جدید جنگی ڈرونز کی تیاری اور حصول کی دوڑ مزید اہم ہو گئی ہے۔بوئنگ کے ترجمان کے مطابق جرمن وزارتِ دفاع نے کمپنی کو طیارے کی خریداری کا منصوبہ ترک کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔ تاہم جرمن وزارتِ دفاع نے اس مخصوص خریداری پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے معاملات سرکاری خریداری کے ضوابط، قانونی تقاضوں اور پارلیمان میں غور کے عمل سے منسلک ہوتے ہیں۔
جرمنی کا منصوبہ تھا کہ وہ 2029 تک ایسے خودکار جنگی ڈرون اپنے فضائی بیڑے میں شامل کرے گا، جو لڑاکا طیاروں کے ساتھ پرواز کرتے ہوئے حملوں سمیت مختلف فوجی کارروائیاں انجام دے سکیں۔ تاہم اب اس صلاحیت کے حصول میں تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اور اطلاعات کے مطابق جرمنی اس منصوبے کو 2030 کی دہائی کے ابتدائی برسوں تک مؤخر کر سکتا ہے۔بوئنگ کے لیے جرمن خریداری سے دستبرداری ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم کمپنی نے کہا ہے کہ وہ آئندہ مراحل میں جرمن حکام کی معاونت کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب جرمنی کے مقامی ادارے ہیل سنگ نے ’’سی اے 1 یوروپا‘‘ جنگی ڈرون پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ایئربس اور امریکی کمپنی کراٹوس کا مشترکہ تیار کردہ ’’یو 740 والکائری‘‘ بھی جرمن منصوبے میں شامل ہونے کی دوڑ میں ہے۔ اس ڈرون کی پہلی پرواز کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیںں: 2026 کا طاقتور ترین ال نینو، ناسا کے مصنوعی سیاروں سے بحرالکاہل میں غیر معمولی تبدیلیاں ریکارڈ
اس کے علاوہ امریکی کمپنی جنرل ایٹمکس بھی اپنے ’’گیمبٹ‘‘ خاندان کے جنگی ڈرون پیش کر سکتی ہے۔ جرمنی میں 2027 سے طیاروں کی آزمائش شروع ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد ممکنہ امیدواروں میں سے انتخاب کیا جا سکتا ہے۔












