لاہور( پاک ترک نیوز) پنجاب میں سفری سہولتوں کا ایک نیا باب کھلنے جا رہا ہے، جہاں برسوں سے نظر انداز ہونے والا ریلوے نظام اب جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا،۔ پاکستان ریلوے اور پنجاب حکومت کے درمیان تاریخی معاہدہ ہو گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ،اس موقع پر 9 اہم روٹس پر نئی ٹرینیں چلانے کا اعلان کیا گیا ۔ یہ منصوبہ پنجاب کے 20 ریجنز میں پھیلے 1415 کلومیٹر طویل نیٹ ورک پر محیط ہوگا، جہاں جدید انجن اور یورپی معیار کی کوچز متعارف کروائی جائیں گی۔
منصوبے کی سب سے بڑی خاص بات لاہور سے راولپنڈی کے درمیان پہلی فاسٹ ٹرین ہے، جو صرف سوا دو گھنٹے میں سفر مکمل کرے گی۔ یہ اقدام نہ صرف وقت کی بچت کرے گا بلکہ کاروباری اور روزمرہ سفر کرنے والے افراد کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا۔
وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ماضی کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے انفراسٹرکچر پر کبھی سنجیدہ سرمایہ کاری نہیں کی گئی، تاہم اب حکومت اس شعبے کو جدید بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ منصوبہ بظاہر ایک “گیم چینجر” ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کی کامیابی چند اہم عوامل سے مشروط ہے۔ پہلا بڑا سوال عملدرآمد کا ہے۔ پاکستان میں ماضی کے کئی بڑے منصوبے اعلانات تک محدود رہے یا تاخیر کا شکار ہوئے۔ اگر یہ منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل ہو جاتا ہے تو یہ واقعی ایک تاریخی کامیابی ہوگی۔
دوسرا اہم پہلو پبلک ٹرانسپورٹ کے کلچر میں تبدیلی ہے۔ اگر تیز، محفوظ اور آرام دہ ریلوے سروس فراہم کی جاتی ہے تو لوگ سڑکوں سے ریل کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے ٹریفک، ایندھن کے اخراجات اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔
تیسرا پہلو معاشی اثرات کا ہے۔ بہتر ریل کنیکٹیویٹی نہ صرف شہروں کے درمیان فاصلے کم کرے گی بلکہ کاروبار، سیاحت اور روزگار کے مواقع بھی بڑھائے گی۔
تاہم “یورپی معیار” کی سروس فراہم کرنا ایک بڑا دعویٰ ہے، جس کے لیے صرف نئی ٹرینیں کافی نہیں بلکہ مکمل نظام،ٹریک، سگنلنگ، اسٹیشنز اور سروس کلچر کو بھی اپگریڈ کرنا ہوگا۔
اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو پنجاب میں سفر کا انداز بدل سکتا ہے۔ سوال اب یہ ہے کہ کیا یہ خواب حقیقت بنے گا یا ماضی کی طرح وعدوں تک محدود رہے گا؟ وقت ہی اس کا فیصلہ کرے گا۔












