کراچی (پاک ترک نیوز )سندھ میں رواں سیزن کے دوران کپاس کی ابتدائی پیداوار کے اعداد و شمار نے حوصلہ افزا صورتحال کی نشاندہی کی ہے، اور فی الحال سندھ نے کپاس کی پیداوار میں پنجاب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے 15 اگست تک کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں 6 لاکھ 58 ہزار 847 بیلز تیار ہو چکی ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران یہ پیداوار 4 لاکھ 83 ہزار 91 بیلز تھی۔
دوسری جانب پنجاب میں رواں سیزن کے دوران کپاس کی پیداوار 3 لاکھ 79 ہزار 211 بیلز رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 3 لاکھ 69 ہزار 550 بیلز تھی۔
یوں 15 اگست تک ملک بھر میں کپاس کی مجموعی پیداوار 10 لاکھ 20 ہزار بیلز تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی تاریخ تک 8 لاکھ 39 ہزار 987 بیلز پیدا ہوئی تھیں۔ اس طرح ابتدائی طور پر ملک میں کپاس کی پیداوار میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی اضافے کو کپاس کی مستقل بحالی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ سندھ میں کپاس کی فصل اب بھی موسمیاتی تبدیلی، غیر معمولی بارشوں اور درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ جیسے خطرات سے دوچار ہے۔
سندھ کے محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 میں صوبے میں کپاس کی پیداوار 27 لاکھ 50 ہزار بیلز رہی، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 28 لاکھ 20 ہزار بیلز تھی۔ اس سے ایک سال قبل یعنی مالی سال 2024 میں سندھ میں کپاس کی پیداوار 38 لاکھ 80 ہزار بیلز تک پہنچ گئی تھی۔
محکمہ زراعت کے مطابق سندھ گزشتہ کئی برسوں سے کپاس کی کاشت کے لیے مقرر کردہ 6 لاکھ 30 ہزار ہیکٹر کے ہدف کو بھی حاصل نہیں کر سکا۔ مالی سال 2026 میں کپاس کا زیرِ کاشت رقبہ تقریباً 5 لاکھ 63 ہزار ہیکٹر رہا، جبکہ رواں سال کے رقبے کے اعداد و شمار حتمی شکل دیے جا رہے ہیں۔












