
از: سہیل شہریار
بنگلہ دیش کےمقتول صدر ضیا الرحمان اور مرحومہ وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادےطارق رحمان کی وطن واپسی اور ان کی پہلی سیاسی تقریر سے انکی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی( بی این پی) اور ملک کے سیاسی پانیوں کو پرسکون کرنے اور بنگلہ دیش کے لیے منصوبہ بندی کے مطابق انتخابات کرانےکے اقدامات کو تقویت ملی ہے۔اور ساتھ طارق رحمان ملک کے آئندہ وزیر اعظم کے بڑے امیدوار کے طور پر سامنے آگئے ہیں۔
بنگلہ دیش کے سیاسی تجزیہ کارطارق رحمان کی ملکی سیاست میں انٹری کو اہم قرار دیتے ہوئے توقع کرر ہے ہیں کہ یہ ممتاز نوجوان رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد بڑھتی ہوئی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور تناؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی ۔ اور اس سے 12فروری 2026 کو ہونے والے 13ویں عام انتخابات کے پر امن انعقاد کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور انکی پارٹی عوامی لیگ پر پابندی لگنے کے بعد اب انتخابی معرکہ بی این پی اور اسکی سابقہ اتحادی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے درمیان ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جس میں طارق رحمان اور انکی جماعت کو بظاہر زیادہ عوامی پزیرائی حاصل ہے۔
طارق رحمان کی واپسی پر انہیں ملنے والی پزیرائی، لوگوں کی دلچسپی اور ردعمل صرف بی این پی تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس میں زندگی کے تمام شعبوں کے لوگ شامل ہیں۔آج بنگلہ دیش میں بہت سے لوگ ممکنہ طور پر گزشتہ 16 مہینوں کے افراتفری کے درمیان پارٹی کو ایک مستحکم قوت کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اگست 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی برطرفی سے پہلے اور بعد میں بڑے پیمانے پر طلبہ کی قیادت میں مظاہروں سے ملک کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔جبکہ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی عبوری حکومت برسراقتدار آنےکے بعد کئے گئے اصلاحات اور امن و امان کے قیام کے وعدوں میں ناکامی سے دوچار ہے۔
طارق رحمان کو گذشتہ جمعرات کے روز 18سالہ جلاوطنی کے بعد ڈھاکہ پہنچنے پر خوش آمدید کہنے کے لیے حامیوں کی زبردست ریلی نے بھی بی این پی کی تنظیمی اور سیاسی طاقت کو ظاہر کیا۔اور یہ امر بھی طارق رحمان اور انکی جماعت کے حق میں کام کر سکتا ہےبنگلہ دیش کے گلی کوچوں میں لوگوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ خالدہ ضیا کے بیٹے کے ساتھ ناانصافی کی گئی اور اسے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔
2006 سے 2009 تک اقتدار میں رہنے والی فوج کی حمایت یافتہ نگراں حکومت میںرحمان کو کئی الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔اور ان میں سے کئی ایک میں انہیںغیر حاضری میں سزا ئیں بھی سنائی گئیں۔چنانچہ اس دوران ظارق رحمان کوقتل سے لے کر بدعنوانی تک متعدد سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر شیخ حسینہ کی حکومت کے سالوں کے دوران بنگلہ دیشی میڈیا میں ان کی مبینہ بداعمالیوں کی کہانیاں بہت زیادہ چلتی رہیں۔تاہم پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران ان کے خلاف تمام مقدمات خارج کر دیے گئے ہیں۔ اور سزاؤں پر روک لگا دی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کی طرح بی این پی کو بھی بنگلہ دیش میں پاکستان کی حامی جماعت تصور کیا جاتا ہے ۔اور آج کے بنگلہ دیش میں جب غلط فہمیوں کے بادل چھٹ رہے ہیں اورپاک۔ بنگلہ دیش تعلقات تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں تو ایسے میں ایک پالسی ساز کے شہرت رکھنے ولے طارق رحمان اپنی انتخابی مہم کے دوران اس کارڈ کو بھی بروئے کار لائیں گے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ ایک ہی ایوان پر مشتمل ہے ۔اور اسکے کل اراکین کی تعداد 350ہے۔ جن میںسے 300ارکان بالغ رائے دہی کی بنیاد پرعوامی ووٹ سےمنتخب ہو کر پارلیمان تک پہنچتے ہیں۔ جبکہ 50نشستیں خواتین کے لئے مخصوص ہیںجنہیں منتخب اراکین اسمبلی سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کے ذریعے متناسب نمائندگی کے طریقہ کار کی بنیاد پر منتخب کرتے ہیں۔












