قاہرہ : (پاک ترک نیوز)مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ مصر اپنی پیشگی منظوری اور بین الاقوامی قانون کے تحت طے پانے والے معاہدے کے بغیر دریائے نیل پر کسی نئے ڈیم کی تعمیر کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ بیان نیل کے پانی کے تنازع پر گذشتہ کئی برسوں میں قاہرہ کا سب سے سخت اور دوٹوک مؤقف قرار دیا جا رہا ہے۔ اتوار کی شب سعودی ٹی وی نیٹ ورک ایم بی سی پر نشر ہونے والے ایک گھنٹہ طویل انٹرویو میں بدر عبدالعاطی نے کہا کہ مصر قانونی اور سفارتی راستے پر قائم ہے، تاہم اگر اس کے آبی حقوق کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ مناسب اور سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا: جو بھی نیا ڈیم پیشگی اطلاع اور باہمی رابطے کے بغیر بنایا گیا، اس پر مصر کا ردِعمل ضرور ہوگا۔ ہمارا ردعمل مضبوط، قانونی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہوگا۔
خیال رہے کہ مصر اور ایتھوپیا گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے ایک شدید تنازع میں الجھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ وہ عظیم الشان پن بجلی منصوبہ ہے جسے ایتھوپیا نے رواں سال مکمل کیا۔ مصر، جو اپنی تقریباً تمام میٹھے پانی کی ضروریات دریائے نیل سے پوری کرتا ہے، گرینڈ ایتھوپین رینیسانس ڈیم کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
قاہرہ کا مؤقف ہے کہ یہ ڈیم نیل کے پانی میں اس کے حصے کو کم کر دے گا اور خشک سالی کے دوران ایتھوپیا کو دریا کے بہاؤ پر ناقابلِ قبول حد تک کنٹرول دے گا۔ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ مصر کا مسئلہ ایتھوپیا کے عوام سے نہیں بلکہ ایتھوپین حکومت کے یکطرفہ اقدامات سے ہے۔
انہوں نے نیل بیسن انیشی ایٹو میں حالیہ پیش رفت کو مصر کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔ اس موقع پر کوآپریٹو فریم ورک ایگریمنٹ پر دوبارہ بات چیت شروع ہوئی، جس کا مقصد اس اقدام کو نیل بیسن کمیشن میں تبدیل کرنا ہے تاکہ نیل کے پانی کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ اتھارٹی قائم کی جا سکے۔
مذاکرات میں دو واضح دھڑے موجود تھے۔ ایک طرف مصر، سوڈان اور اریٹریا، جو زیریں دھارے کے ممالک کے لیے زیادہ کردار کا مطالبہ کر رہے تھے، جبکہ دوسری طرف ایتھوپیا کی قیادت میں وہ ممالک تھے جن کی شرائط ناقابلِ قبول سمجھی گئیں، جس کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
ماہرین کے مطابق مصر اور سوڈان کی شمولیت کے بغیر یہ منصوبہ قابلِ عمل ہی نہیں۔ بدر عبدالعاطی کے مطابق رواں ماہ برونڈی میں ہونے والے وزارتی اجلاس میں کئی برس بعد دونوں دھڑے ایک حقیقی مشاورتی عمل” میں اکٹھے ہوئے۔ اس اجلاس کا نتیجہ ایک تاریخی پیش رفت کی صورت میں نکلا، جس میں سات ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ 2010 کے فریم ورک کو ترمیم کے لیے دوبارہ کھولا جائے، تاکہ زیریں دھارے کے ممالک کے تحفظات دور کر کے انہیں دوبارہ شامل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا اگر اتفاقِ رائے قائم ہو جاتا ہے تو مصر بھرپور انداز میں اس اقدام میں واپس آئے گا اور اسے نیل واٹر کمیشن میں تبدیل کرنے کی حمایت کرے گا۔ ہمارا اصول بالکل واضح ہے۔ مصر اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ مصر اور سوڈان مسلسل اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایتھوپیا ڈیم کے آپریشن اور انتظام سے متعلق ایک قانونی طور پر پابند معاہدہ کرے۔
وزیرِ خارجہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مصر نے تاریخی طور پر نیل کے پانی پر اجارہ داری قائم رکھی یا افریقی ترقی کی مخالفت کی۔ ان کے مطابق یہ ایک غلط بیانیہ تھا جسے بڑی حد تک ختم کر دیا گیا ہے، اور یہ وزارتِ خارجہ کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایتھوپیا کی قیادت نے بھی مصر کے خلاف یہ بیانیہ پھیلایا اور اسے افریقہ میں ترقی کے حوالے سے نوآبادیاتی سوچ کا حامل قرار دیا۔ بدر عبدالعاطی نے بتایا کہ مصر نے یوگنڈا، کینیا اور جنوبی سوڈان سمیت جنوبی نیل بیسن کے ممالک میں 34 نئے آبی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے اپنی تاریخ میں پہلی بار مصری بجٹ سے ڈالرز میں ایک بڑا فنڈ قائم کیا ہے، جس کے ذریعے جنوبی بیسن میں پانی اور ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مصر اپنے افریقی بھائیوں کی ترقی کا حامی ہے، جبکہ اپنے قومی مفاد کا تحفظ بھی کرتا ہے۔ مصر میں پناہ گزینوں کا بوجھوزیرِ خارجہ نے مصر میں موجود پناہ گزینوں کے مسئلے پر بھی بات کی اور عالمی برادری سے ذمہ داری بانٹنے کا مطالبہ کیا۔
ان کے مطابق مصر میں اس وقت پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جو گزشتہ برس تقریباً 90 لاکھ تھی۔انہوں نے رجسٹرڈ پناہ گزینوں اور ان سے کہیں زیادہ غیر رجسٹرڈ افراد کے درمیان فرق واضح کیا، جو مصری شہروں میں ضم ہو چکے ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر یورپی یونین کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ مصر میں پناہ گزینوں کی دیکھ بھال میں یورپ کی براہِ راست ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے کہا مصر اکیلا یہ بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر یہ ممالک اخراجات میں حصہ نہیں ڈالتے تو انہیں نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ مصر بہت سے پناہ گزینوں کے لیے محض ایک عبوری ملک ہے، اور ان کی اکثریت یورپ جانا چاہتی ہے۔
بدر عبدالعاطی نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ مصر پناہ گزینوں کی میزبانی سے مالی فائدہ اٹھاتا ہے، اور کہا کہ اکثر اوقات حکومت کو اپنی جیب سے خسارہ پورا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہم پناہ گزینوں کے نام پر ایک پاؤنڈ بھی نہیں مانگتے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ شراکت دار یہاں موجود ہوں، امداد مستحقین تک پہنچے اور اقوامِ متحدہ کے ادارے کے تحت رجسٹریشن کا دائرہ وسیع ہو۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مصری عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پناہ گزین پالیسیوں اور ریاستی صلاحیت پر جائز سوالات اٹھائیں۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ قانون سازی کے تحت پہلی بار مصری حکومت خود پناہ گزین کی حیثیت کا تعین کر سکے گی، جو اقوامِ متحدہ کے پروٹوکولز سے ہم آہنگ ہے، تاہم اس سے قاہرہ کو زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہر غیر ملکی شہری پر لازم ہے کہ وہ مصری قانون کی پاسداری کرے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے باز رہے۔
وزیرِ خارجہ نے شام کی نئی حکومت کے حوالے سے مصر کے محتاط رویے پر بھی وضاحت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر کا مؤقف بالکل واضح ہے اور قاہرہ شامی عوام اور موجودہ شامی حکومت کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہے، تاہم تعلقات میں احتیاط برتی جا رہی ہے، کیونکہگذشتہ دسمبر میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں استحکام ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر اسرائیلی جارحیت اور شامی علاقوں پر قبضے کی مسلسل مذمت کرتا رہے گا۔
بدر عبدالعاطی نے تصدیق کی کہ مصر شامی حکام سے رابطے میں ہے، جن میں صدر احمد الشراع بھی شامل ہیں، جو رواں سال قاہرہ کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصر شام کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ قومی وحدت برقرار رکھے اور ایسا جامع سیاسی نظام قائم کرے جو تمام مسالک اور نسلی گروہوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔تاہم انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ شام میں غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی ایک سنگین مسئلہ ہے اور دہشت گردی کا سدِباب ضروری ہے، تاکہ شام اپنے پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ نہ بنے۔












