لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا ایک خاموش مگر خطرناک بحران کی لپیٹ میں آ چکی ہے ،ایک ایسا خطرہ جو نہ سرحدیں دیکھتا ہے، نہ وقت۔ جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں موسمیاتی تبدیلی کی، جو اب صرف ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک حقیقت بن چکی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، اور موسم کے پیٹرن خطرناک حد تک بدل چکے ہیں۔ پاکستان ایک بار پھر خطرناک موسمی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک بھر میں شدید ہیٹ ویو آنے کا امکان ہے، جس سے ہزاروں جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
فیکٹریوں کا دھواں ، گاڑیوں سے نکلنے والی گیسیز اور کوئلے، تیل اور گیس کا بے دریغ استعمال فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھا رہا ہے، جو زمین کو ایک بھٹی میں تبدیل کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلات کی کٹائی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
پاکستان بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں۔ پاکستان محکمہ موسمیات پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ ملک میں شدید گرمی، غیر متوقع بارشیں اور موسمی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات زراعت، پانی اور معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ملک کے بڑے شہر جیسے کراچی، لاہور، اسلام آباد ،فیصل آباد ، گوجرانوالہ ، پشاور ،حیدر آباد ، راولپنڈی ،اور ملتان اس شدید گرمی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، جہاں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔ یہ بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہر ایک لاکھ افراد میں درجنوں افراد کی موت ہو سکتی ہے ،
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دل کے امراض میں اچانک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھی 2015 کی ہیٹ ویو کے دوران صرف کراچی میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، اور اب ایک بار پھر ویسا ہی خطرہ منڈلا رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق لوگ شدید گرمی میں غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں زیادہ سے زیادہ پانی پیئں ، بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں ،ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہنچیں
سوال یہ ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں، لیکن بغیر کسی موسمی یا ماحولیاتی منصوبہ بندی کے۔ درخت کم ہو رہے ہیں،
سبزہ ختم ہو رہا ہے، اور کنکریٹ کا جنگل بڑھ رہا ہے۔ یہی صورتحال گرمی کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ کچی آبادیوں میں رہنے والے لاکھوں لوگ اس گرمی کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ جہاں نہ مناسب ہوا ہے، نہ بجلی، نہ پانی۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے سالوں میں گرمی کی لہریں مزید شدید اور جان لیوا ہو جائیں گی۔
تو آخر اس کا حل کیا ہے؟ شہروں میں درخت لگانا، سبز جگہیں بڑھانا، عمارتوں کو گرمی سے محفوظ بنانا، اور ہیٹ ویوز کے لیے ایمرجنسی نظام قائم کرنا اب ایک ضرورت ہے، کوئی آپشن نہیں۔ ناظرین! یہ کوئی دور کا خطرہ نہیں۔ یہ وہ مستقبل ہے جو تیزی سے ہمارے قریب آ رہا ہے۔ اگر آج قدم نہ اٹھائے گئے تو کل اس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی۔
ناظرین! سوال یہ ہے کہ آخر اس سب کا ذمہ دار کون ہے۔جواب واضح انسان خود ہے ، ہماری طرزِ زندگی، توانائی کا استعمال، اور ماحول سے لاپرواہی ہمیں اس مقام تک لے آئی ہے۔اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والا وقت مزید خطرناک ہو سکتا ہے۔












