بیجنگ ( پاک ترک نیوز) دنیا ایک بار پھر ہل کر رہ گئی۔۔ چین کا خفیہ مشن بے نقاب۔ سیٹلائٹ تصاویر نے ایٹمی ہتھیاروں کے نئے منصوبوں کا بھانڈا پھوڑ دیا ۔ چین نہ صرف اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایسے ہتھیار بھی تیار کر رہا ہے جو دشمن کے دفاعی نظام کو چکمہ دے سکیں۔
ایشیا کی سب سے بڑی طاقت چین ایک ایسے خفیہ مشن پر کام کر رہا ہے جس نے عالمی طاقتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ چین کے صوبہ سیچوان کے دور افتادہ گاؤں میں لوگوں کی جبری بے دخلی کی گئی ،اس جگہ پر چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک میں توسیع کر رہا ہے ،سیٹلائٹ کی تصاویر سے دیکھا جا سکتا ہے کہ بستیوں کی جگہ اب وہاں بلند عمارتیں اور گنبد نما ڈھانچے تعمیر ہو گئے ، نئی جوہری فیسیلیٹی کو ’سائٹ 906‘ نام دیا گیا ۔ جوہری اڈے میں ایک بہت بڑا گنبد تعمیر کیا گیا جس کا رقبہ 13 ٹینس کورٹس کے برابر ہے۔ اس مضبوط کنکریٹ اور اسٹیل کے ڈھانچے میں ریڈیشن مانیٹر اور دھماکہ پروف دروازے نصب کیے گئے تاکہ یورینیم اور پلوٹونیم جیسے تابکار مواد کو محفوظ رکھا جا سکے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ سیٹلائٹ تصاویر میں چین کے دور دراز علاقوں میں تیزی سے تعمیر ہونے والی خفیہ تنصیبات دیکھی گئی ہیں۔یہ مقامات بظاہر عام فوجی اڈے نہیں بلکہ جدید ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے یا لانچنگ سسٹمز سے متعلق ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئی “Cold War” جیسی فضا پیدا کر سکتی ہے، جہاں امریکا، روس اور دیگر ممالک بھی اپنے دفاعی منصوبوں کو تیز کر سکتے ہیں۔
ادھر بیجنگ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی فوجی سرگرمیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔
چین پہلے ہی دنیا کی بڑی ایٹمی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے اور حالیہ برسوں میں اس نے اپنی فوجی صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے، خاص طور پر میزائل ٹیکنالوجی اور خلائی نگرانی کے شعبے میں۔
اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو دنیا ایک نئے اسلحہ جاتی مقابلے کی دہلیز پر کھڑی ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اس بڑھتی کشیدگی کو روک پائیں گی؟کیا چین واقعی خفیہ ایٹمی منصوبے پر کام کر رہا ہے؟ یا یہ صرف عالمی سیاست کا ایک اور بیانیہ ہے؟












