بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے قطب شمالی کے سمندری راستے پر اپنے تیار کردہ مصنوعی سیاروں کے ذریعے انٹرنیٹ نظام کا عملی حالات میں اہم تجربہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ اس تجربے میں دور دراز علاقوں کے درمیان رابطوں، آن لائن طبی مشاورت اور سمندری سائنسی معلومات کی فوری ترسیل میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔چین کی سولہویں قطب شمالی مہم میں شامل تحقیقی جہاز ’’جیدی‘‘ پر یہ تجربہ کیا گیا۔ اس دوران پہلی مرتبہ قطب شمالی، قطب جنوبی اور چین کے جنوب مغربی خودمختار علاقے تبت کے درمیان رابطے قائم کیے گئے۔تجربے کے دوران تحقیقی جہاز جیدی، قطب جنوبی میں قائم چین کے کنلنگ تحقیقی مرکز، لہاسا اور شمالی بحیرہ کے ادارے کے درمیان ویڈیو رابطہ کیا گیا۔ شرکا نے آواز اور تصویر کی واضح اور بلاتعطل ترسیل کا مشاہدہ کیا۔
چینی نظام نے شدید سردی، برفانی دھند، تیز ہواؤں، بلند مقامات اور ریت کے طوفان جیسے سخت حالات میں بھی رابطوں کا معیار برقرار رکھا۔ اس پیش رفت کو ان دور دراز علاقوں میں رابطوں کے مسائل حل کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جہاں روایتی مواصلاتی نظام مؤثر طور پر کام نہیں کر پاتے۔اس تجربے کی ایک اہم کامیابی دور دراز طبی مشاورت تھی۔ مہم میں شامل ایک رکن کی طبیعت اچانک خراب ہونے پر مصنوعی سیاروں کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے چین کے شہر چنگ ڈاؤ کے ایک اسپتال میں موجود طبی ماہرین سے براہ راست ویڈیو رابطہ کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے مریض کی حالت کا جائزہ لیا اور بروقت طبی رہنمائی فراہم کی۔اس کے علاوہ چین نے سمندر میں تیرتے خودکار سائنسی آلے کے ذریعے سمندری مشاہدات کی معلومات جمع کرنے اور انہیں اپنے مصنوعی سیاروں کے ذریعے فوری منتقل کرنے کا تجربہ بھی کامیابی سے مکمل کیا۔ اس طرح سمندری سائنسی معلومات کی ترسیل کے لیے غیر ملکی مصنوعی سیاروں کی خدمات پر انحصار کم کرنے کی جانب پیش رفت ہوئی۔مہم کی ٹیم کے مطابق سفر کے دوران سو سے زائد گیگا بائٹس معلومات پر مشتمل تین سو سے زیادہ فائلیں منتقل کی گئیں، جبکہ چالیس سے زیادہ ویڈیو اجلاس بھی منعقد ہوئے۔ ان تجربات میں صوتی رابطوں، بڑی فائلوں کی منتقلی، جہاز سے ساحلی مراکز تک ویڈیو رابطوں اور سائنسی معلومات کی ترسیل کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر کو خلا میں روانہ ہونے کا امکان
چینی ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کی اہمیت یہ بھی ہے کہ قطبی علاقوں میں زمین پر قائم رابطہ مراکز کے بغیر، مدار میں موجود مصنوعی سیاروں کے درمیان لیزر رابطوں کے ذریعے معلومات منتقل کرنے کے امکانات کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔تاہم چین کا مصنوعی سیاروں پر مبنی انٹرنیٹ نظام ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہوا۔ ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال کے لیے مزید مصنوعی سیارے مدار میں بھیجنے، صارفین کے آلات کی لاگت کم کرنے اور نظام کی دیکھ بھال کے انتظامات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔چین کے خلائی ادارے کے مطابق اس کے ’’گواوانگ‘‘ مصنوعی سیاروں کے جال میں ۲۰۲۹ء کے اختتام تک تقریباً تیرہ سو مصنوعی سیارے شامل کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ مجموعی طور پر بارہ ہزار نو سو بانوے مصنوعی سیاروں کا نظام ۲۰۳۵ء تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔












