بیجنگ(پاک ترک نیوز)چین نے جدید ٹیکنالوجی اور اپنی تیار کردہ دیوہیکل سرنگ کھودنے والی مشین کے ذریعے سمندر کے نیچے دنیا کی طویل ترین تیز رفتار ریلوے سرنگ کی تعمیر میں نمایاں پیش رفت کرلی۔ چین کی مقامی طور پر تیار کردہ 135 میٹر طویل مشین سمندر کی تہہ میں انتہائی مشکل زمینی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے سرنگ کی کھدائی جاری رکھے ہوئے ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق یہ منصوبہ مشرقی چین کے صوبے ژی جیانگ میں ننگبو اور ژوشان کو تیز رفتار ریلوے کے ذریعے ملانے کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ منصوبے میں شامل جنتانگ زیرِ سمندر سرنگ کی مجموعی لمبائی 16 اعشاریہ 18 کلومیٹر ہے، جبکہ اس میں 11 اعشاریہ 21 کلومیٹر کا حصہ خصوصی مشین کے ذریعے کھودا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ دنیا کی طویل ترین زیرِ سمندر تیز رفتار ریلوے سرنگ ہوگی۔ منصوبے کی تکمیل کے لیے چین نے دو دیوہیکل مشینیں تیار کی ہیں، جن کے نام یونگ ژو اور ڈنگ ہائی رکھے گئے ہیں۔ ایک مشین ننگبو جبکہ دوسری ژوشان کی جانب سے کھدائی کر رہی ہے۔ دونوں مشینیں سمندر کی تہہ میں مقررہ مقام پر آمنے سامنے ملیں گی، جس کے بعد انہیں مکمل سرنگ کے اندر ہی کھول کر باہر نکالا جائے گا۔سمندر کی تہہ میں 93 میٹر گہرائی تک کھدائی۔
چینی حکام کے مطابق یونگ ژو نامی مشین ننگبو کی جانب سے 4 ہزار میٹر سے زیادہ کھدائی مکمل کرچکی ہے، جو اس کے مقررہ کام کا تقریباً 83 فیصد ہے۔ اب یہ سمندر کی تہہ سے تقریباً 93 میٹر گہرائی والے انتہائی مشکل حصے کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اس مقام پر زیرِ زمین پانی اور مٹی کا دباؤ انتہائی زیادہ ہے، جبکہ چٹانوں کی سختی بھی تعمیراتی کام کو مشکل بنا رہی ہے۔ بعض مقامات پر چٹانوں کی مضبوطی 240 میگاپاسکل تک پہنچ جاتی ہے، جو عام کنکریٹ سے آٹھ گنا سے بھی زیادہ ہے۔
مشین کے چیف مکینیکل انجینئر ڈونگ بِنگ کے مطابق کھدائی کے دوران مشین کے کٹر مسلسل سخت چٹانوں سے ٹکرا رہے ہیں اور اب بعض کٹر چند درجن سینٹی میٹر کھدائی کے بعد تبدیل کرنا پڑتے ہیں۔ اب تک تقریباً 4 ہزار کٹر تبدیل کیے جاچکے ہیں۔مصنوعی ذہانت سے مشین کی نگرانی۔اس منصوبے کی خاص بات جدید ڈیجیٹل نظام اور مصنوعی ذہانت کا استعمال ہے۔ مشین میں نصب سینسرز اور کیمروں کے ذریعے کھدائی، کٹرز کی حالت، دباؤ اور دیگر اہم تکنیکی معاملات کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔
کسی بھی غیر معمولی صورت حال میں متعلقہ انجینئرز کو فوری طور پر موبائل فون پر اطلاع موصول ہوجاتی ہے، جس سے ممکنہ خرابیوں کی بروقت نشاندہی اور حادثات کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔
اس کے علاوہ چین نے زیرِ سمندر کام کرنے والے کارکنوں کے لیے ایک خصوصی نظام بھی تیار کیا ہے، جسے ڈیپ سی اسپیس اسٹیشن کا نام دیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے غوطہ خور اور تکنیکی ماہرین بلند دباؤ والے ماحول میں خصوصی رہائشی چیمبر کے اندر رہ کر 28 روز تک شفٹوں میں کام کرسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال فروری میں نو تربیت یافتہ غوطہ خوروں نے تقریباً 75 میٹر گہرائی میں 22 روزہ آپریشن کے دوران مشین کے 46 کٹر تبدیل کیے۔ یہ نظام زیادہ سے زیادہ 200 میٹر گہرائی میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چار کلومیٹر دور بیٹھ کر مشین چلانے کی سہولت
چین نے اس منصوبے میں دور سے مشین چلانے کی ٹیکنالوجی بھی متعارف کرائی ہے۔ اب آپریٹرز زیرِ زمین مشین کے اندر بیٹھنے کے بجائے کھدائی کے مقام سے تقریباً چار کلومیٹر دور قائم کنٹرول سینٹر میں بیٹھ کر مشین کو چلا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے مشین کو مزید خودکار بنایا جائے گا، جہاں آپریٹر صرف کام شروع کرنے کا حکم دے گا اور مشین مقررہ نظام کے تحت خودکار انداز میں کھدائی کا عمل آگے بڑھائے گی۔
چین سرنگ کھودنے والی مشینوں کا بڑا عالمی مرکز بن گیا
چینی ماہرین کے مطابق چند دہائیاں قبل چین زیرِ زمین تعمیراتی منصوبوں کے لیے غیر ملکی مشینوں پر انحصار کرتا تھا، لیکن مسلسل تحقیق اور مقامی صنعتی ترقی کے باعث اب چین دنیا میں سرنگ کھودنے والی مشینوں کا سب سے بڑا پیداواری اور تجارتی مرکز بن چکا ہے۔
صنعتی اعداد و شمار کے مطابق چین میں تیار کردہ مشینیں عالمی منڈی میں دو تہائی سے زیادہ حصہ رکھتی ہیں، جبکہ چین کی مقامی نئی مشینوں کی مارکیٹ میں ان کا حصہ 95 فیصد سے زیادہ ہے۔
چین کی تیار کردہ یہ مشینیں ترکیہ، جنوبی کوریا، اٹلی، زیمبیا، پیرو اور رومانیہ سمیت 30 سے زائد ممالک اور خطوں کو برآمد کی جاچکی ہیں۔
2028 میں ریلوے منصوبہ مکمل ہونے کی توقع
چینی حکام کے مطابق ننگبو اور ژوشان کو ملانے والا یہ ریلوے منصوبہ 2028 میں ٹریفک کے لیے کھولے جانے کی توقع ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد دونوں شہروں کے درمیان تیز رفتار ٹرین کا سفر صرف 26 منٹ میں طے ہوسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور قطر کے درمیان ایل این جی معاہدے پر اہم پیش رفت، گیس کی قیمت کم کرنے پر اتفاق
اس منصوبے کی تکمیل سے ژوشان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسے ریلوے کے ذریعے ملک کے دوسرے علاقوں سے منسلک کرنے کا خواب بھی پورا ہوجائے گا۔
چینی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ صرف ایک زیرِ سمندر ریلوے سرنگ کی تعمیر نہیں بلکہ جدید مشین سازی، مصنوعی ذہانت اور خودکار تعمیراتی ٹیکنالوجی میں چین کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا بھی مظہر ہے۔












