تہران/ واشنگٹن :(پاک ترک نیوز)امریکا نے ایران کے قریب فضائی اور بحری طاقت میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 50 سے زائد جدید لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ منتقل کر دیے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے حوالے سے یہ رپورٹ جاری کی۔
آزاد فلائٹ ٹریکرز کے مطابق Axios کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ F-16، F-22 اور F-35 طیاروں کی بڑی تعداد خطے کی جانب پرواز کرتی دیکھی گئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نےخبر رساں ادارے کو بتایا کہ منگل کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم کئی اہم نکات پر اب بھی بات چیت باقی ہے۔
عہدیدار کے مطابق ایران نے آئندہ دو ہفتوں میں تفصیلی تجاویز پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے مؤقف میں موجود خلیج کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں مثبت رہیں لیکن اختلافات اب بھی نمایاں ہیں اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید کام درکار ہے۔
اُدھر امریکی میڈیا نے گذشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا اپنا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہازجیرالڈ فورڈ بھی مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ہے تاکہ ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر اپنی عسکری موجودگی مضبوط بنائی جا سکے۔
یہ بحری بیڑہ پہلے کیریبین میں تعینات تھا اور 4امریکی عہدیداروں کے مطابق اسے نئی منزل کے احکامات گذ شتہ جمعرات کو دیے گئے۔
مزید برآں ابراہم لنکن اور دیگر اہم فضائی و بحری اثاثے بھی جنوری سے خطے میں موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت اور جاری مذاکرات خطے کی صورتحال کو نہایت حساس مرحلے میں داخل کر چکے ہیں، جہاں سفارت کاری اور طاقت کا مظاہرہ ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔









