اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) شکایت درج کرنیوالا پولیس افسر اسی کیس کا تفتیشی افسر نہیں بن سکتا۔
منشیات کیس میں سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ ، منشیات کیس میں ملزم کی اپیل منظور، عمر قید سے بری،جسٹس جمال خان مندوخیل نے فیصلے میں لکھا شکایت کنندہ کا بطور تفتیش افسر کام کرنا غیرجانبداری پر سوال اٹھاتا ہے،منصفانہ ٹرائل کیلئے غیرجانبدار تفتیش ناگزیر ہے۔
تفتیش ایسے افسر کے سپرد ہونی چاہیے جو مقدمے کا فریق نہ ہو،شکایت کنندہ فطری طور پر ملزم کو سزا دلوانے کی جانب مائل ہوتا ہے، ایسا افسر غیر جانب دار تفتیش کی بجائے اپنے مؤقف کے حق میں شواہد تلاش کرسکتا ہے، دوہرے کردار سے شفاف تحقیقات متاثر ہوتی ہیں ،ایسی تفتیش انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی، اگر شکایت کنندہ کو تفتیشی افسر مقرر کیا جائے تو متعلقہ اتھارٹی کو ٹھوس وجوہات دینا ہوں گی۔
فوجداری مقدمات میں معمولی شک کا فائدہ بھی ملزم کو دینا لازم ہے، اس مقدمے میں شواہد کی برآمدگی اور فرانزک عمل بھی مشکوک رہا،تفتیش منصفانہ ٹرائل کے اصولوں پر پوری نہ اتر سکی، سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے ،ملزم کیخلاف 2019 مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا گیا تھا،ٹرائل کورٹ نے ملزم کو انسداد منشیات قانون 1997 کی دفعہ 9 سی کے تحت عمر قید کی سزا سنائی،سندھ ہائی کورٹ نے بھی ملزم کی سزا برقرار رکھی تھی۔












