اسلام آباد ( پاک ترک نیوز)
مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری خطرناک کشیدگی کے بعد اب سفارتکاری ایک بار پھر متحرک ہو گئی ۔۔امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کی توقع ہے ، دنیا کی نظریں پھر پاکستان پر جم گئیں ۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں ۔دونوں فریق ثالثی کردار ادا کرنے والوں کے ساتھ مل کر ایک صفحے پر مشتمل 14نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس مجوزہ فریم ورک کے تحت ایک ماہ پر محیط مذاکراتی عمل طے کیا جائے گا، جس کا مقصد نہ صرف جاری کشیدگی کم کرنا بلکہ خطے کو ممکنہ بڑی جنگ سے بچانا بھی ہے۔ مذاکراتی مسودے میں ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے، امریکی پابندیوں، قیدیوں کے تبادلے اور ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کسی تیسرے ملک منتقل کرنے جیسے حساس نکات شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے ایران سے جلد جواب کی توقع ہے۔ معاملات آگے نہ بڑھے تو پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع ہو گا، امریکی صدر نے مزید کہا ایران کی فوج ختم ہوگئی، دیکھتے ہیں وہ کیا کرتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے ایران نے امریکی تجاویز کا ابھی کوئی جواب نہیں دیا،، امید ہے تہران سنجیدگی سے مذاکرات کی جانب آئے گا، مارکو روبیو نے مزید کہا امریکی نیوی نے ایران کے 70ٹینکرز کا راستہ روک رکھا ہے،، حالیہ حملے آپریشن ایپک فیوری کا حصہ نہیں، ایران سمندری راستے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول ختم کرنے میں مسلسل انکار کر رہا ہے ، ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر کا کہناہےآبنائے ہرمز کا کنٹرول ایٹم بم رکھنے جیسا ہے۔ ایران اس اہم اسٹریٹجک برتری سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ایران نے طویل عرصے تک آبنائے ہرمز میں اپنی جغرافیائی برتری کو نظر انداز کیا۔ ۔ ایران آبنائے ہرمز کے نظام کو تبدیل کرے گا خواہ ایسا بین الاقوامی قوانین کے ذریعے ہو یا پھر یکطرفہ طور پر۔۔۔ ایران اس جنگ کے حاصل کردہ فوائد سے دستبردار نہیں ہوگا ۔
سفارتی حلقوں کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیوں پر سخت نگرانی قبول کرے، جبکہ تہران پابندیوں میں نرمی اور خطے میں امریکی دباؤ کم کرنے کی یقین دہانی مانگ رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی، عالمی تیل منڈی میں استحکام اور آبنائے ہرمز میں بحری کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں متوقع مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ پورے خطے کی سیاسی و معاشی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔












