پشاور(پاک ترک نیوز ) ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر سیاست کی گئی اور قوم کو الجھایا گیا، دہشت گردی کے پیچھے گٹھ جوڑ کر مقامی اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا ہے، خیبرپختونخوا کے غیور عوام دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، انشاء اللہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکیں گے،افواج پاکستان کی جانب سے تجدید عزم کرنے آیا ہوں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کو سپیس دی گئی، کیا آج ہم ایک بیانے پر کھڑے ہیں؟ پچھلی حکومتی نے نیشنل ایکشن پلان سے کچھ نکات حذف کیے،نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے کیا، دھرتی کے بہادرسپوتوں نے اپنے خون سے بہادری کی تاریخ رقم کی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ کیا ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہے؟ ہر مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے ہوتا تو غزوات اورجنگیں نہ ہوتیں، تمام سیاسی جماعتیں پشاور میں بیٹھیں اور نیشنل ایکشن پلان بنایا، دہشتگردی کو جنگ سے اکھاڑنے کیلئے 14نکات پر اتفاق کیا گیا، کیا آج ہم ایک بیانیے پر کھڑے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ بھار ت نے پاکستان پر حملہ کیا تو عوام نے کیوں نہیں کہا کہ اگلے دن بات چیت کرلیں؟
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہزاروں پاکستانیوں،افواج،پولیس ،سکیورٹی اداروں کے جوانوں نےاپنے خون سے دھرتی کو سیچا ہے، 2024کے دوران کے پی میں مجموعی طور پر 14ہزار 535انٹیلی جنس بیسڈ آپریش کیے گئے، روزانہ 40انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2024 کے دوران آپریشنز میں 700سے زائد دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، خیبرپختونخوا میں 2024میں ان آپریشنز کے دوران 577قیمتی جانوں نے جام شہادت نوش کیا، شہدا میں پاک فوج کے 272بہادرافسر وجوان، پولیس کے 140اور165معصوم پاکستانی شامل ہیں۔












