تہران ( پاک ترک نیوز) ایران پرامریکی حملوں کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ نویں رات بھی بمباری، میزائل، ڈرون اور جنگی طیارے ایکشن میں۔ ایران کا بھی بھرپور جواب، امریکی ڈرون مار گرانے اور امریکی اہداف پر حملوں کے دعوے۔۔۔ آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی معیشت کی دھڑکن بن گئی، جبکہ ٹرمپ نے واضح کر دیا کہ اب کارروائیاں مزید تیز ہوں گی۔ آخر خطہ کس طرف جا رہا ہے؟ دیکھیے یہ خصوصی رپورٹ۔
مشرقِ وسطیٰ کی فضائیں مسلسل نویں رات بھی دھماکوں سے گونجتی رہیں۔۔۔ امریکی افواج نے ایران کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔۔۔ جنوبی مشرقی شہر چابہار، سیرک، ہرمزگان، بوشہر اور کوناراک میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کام کے مطابق اس مرحلے میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔۔۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی فوج کے 9ویں روز بھی ایران پر حملے
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی علاقے میں ایک امریکی جاسوس ڈرون مار گرایا گیا ہے۔۔۔ تہران کا کہنا ہے کہ ملکی فضائی دفاع پوری طرح فعال ہے اور ہر نئی جارحیت کا جواب دیا جا رہا ہے۔
ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔۔۔ جبکہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکر دھماکوں کے بعد تباہ ہو گئے۔۔۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی حکام کے مطابق عراق میں حملے کے دوران ایک امریکی فوجی ہلاک ہوا، جبکہ شام میں دشمن کے ایک کمانڈ سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔۔۔ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ شہید ہونے والے ایرانی فوجیوں کے خون کا بدلہ لیا جا رہا ہے۔۔۔ ساتھ ہی خبردار کیا کہ جب تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز ایندھن کی ترسیل کے لیے محفوظ نہیں رہے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید حملے تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت افسوسناک ہے، لیکن یہ کارروائیاں اسی کا ردعمل ہیں۔۔۔ ان کے بقول امریکی فوجی اس مقصد کے لیے لڑ رہے تھے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔۔۔ ٹرمپ نے کہا کہ اب انہیں اس بات کی بھی فکر نہیں کہ ایران کسی معاہدے کی پابندی کرتا ہے یا نہیں، کیونکہ اصل مقصد ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو نہ دھمکیوں سے جھکایا جا سکتا ہے اور نہ لالچ سے خریدا جا سکتا ہے۔۔۔ ان کے مطابق افزودہ یورینیم کسی صورت فروخت نہیں کی جائے گی۔۔۔ عراقچی نے کہا کہ بارہ روزہ جنگ سے پہلے بھی ایران کو مذاکرات کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی، مگر ایران نے اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جنگ کے باوجود ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔۔۔ دنیا کو اب احساس ہو چکا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی سب سے بڑی تزویراتی طاقت ہے۔۔۔ یہی وہ گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار دنیا بھر تک پہنچتی ہے، اور کسی بھی کشیدگی کے اثرات پوری عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
نویں رات بھی جنگ کی آگ نہ بجھ سکی۔۔۔ ایک طرف امریکی حملے مزید تیز ہو رہے ہیں، تو دوسری جانب ایران بھی مسلسل جوابی کارروائیوں کے دعوے کر رہا ہے۔۔۔ آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تنازع محدود رہے گا، یا پورا خطہ ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا؟ وقت ہی اس کا جواب دے گا۔












