اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سات مئی 2025 کو کشمیر کے محاذ پر ہونے والی فضائی جھڑپ نے چینی کے ایل جے 7 اے ریڈار اور جدید فضائی جنگ کی صلاحیتوں پر عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ڈیفنس سیکیورٹی ایشیا کے مطابق اس فضائی معرکے میں پاکستانی جے 10 سی ای جنگی طیاروں کی جانب سے بھارتی فضائیہ کے متعدد طیارے مار گرانے کے دعووں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا چینی سینسر اور میزائل ٹیکنالوجی مغربی فضائی برتری کے روایتی تصور کو چیلنج کرنے کی صلاحیت حاصل کرچکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے بھارتی فضائیہ کے رافیل، مگ 29 اور ایس یو 30 ایم کے آئی طیاروں کو نقصان پہنچانے یا مار گرانے کے دعوے کیے گئے، تاہم بھارتی نقصانات کی حتمی تعداد اب بھی متنازع ہے۔
امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ کم از کم دو بھارتی طیارے چینی ساختہ جے 10 جنگی طیاروں کے ذریعے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے گرائے گئے۔ ان میں کم از کم ایک طیارہ فرانسیسی ساختہ رافیل ہونے کا بھی اندازہ ظاہر کیا گیا۔
دوسری جانب فرانسیسی حکام نے صرف ایک رافیل طیارے کے نقصان سے مطابقت رکھنے والے شواہد کی نشاندہی کی ہے۔ اس طرح تصدیق شدہ نقصانات اور پاکستان کی جانب سے بتائے گئے زیادہ اعداد و شمار کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔
بھارت نے بھی اپنے نقصانات کی مکمل تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی اور آپریشن کے دوران اپنی جانب سے کیے گئے حملوں پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا 430ٹن کا خلائی دیو اب زمین پر گرنے والا ہے؟
اس فضائی معرکے میں سب سے زیادہ توجہ چینی ساختہ کے ایل جے 7 اے ایکٹو الیکٹرانکلی اسکین شدہ ارے ریڈار پر مرکوز ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ریڈار جدید گیلیم نائٹرائیڈ ٹیکنالوجی پر مبنی فائر کنٹرول نظام ہے، جس کے بارے میں چینی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ جدید چوتھی نسل کے جنگی طیاروں کو تقریباً 200 کلومیٹر تک کی حدود میں تلاش، ٹریک اور حملے کے لیے معلومات فراہم کرسکتا ہے۔
چینی ریڈار ٹیکنالوجی کے معروف ماہر اور سی ای ٹی سی 14 ویں انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہر تعلیم بین ڈے نے چینی میڈیا سے گفتگو میں ملک کی ریڈار صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکیوں کے پاس جو ریڈار موجود ہیں، چین کے پاس بھی وہ ٹیکنالوجی ہے اور بعض شعبوں میں چین اس سے بھی بہتر ریڈار تیار کررہا ہے۔
چینی ریاستی اور تجارتی میڈیا نے جولائی 2026 میں ان دعووں کو نمایاں طور پر اجاگر کیا، جس سے جے 10 سی ای کی صلاحیتوں کے حوالے سے عالمی دفاعی حلقوں میں بحث مزید تیز ہوگئی۔
رپورٹ میں اصل تکنیکی سوال یہ قرار دیا گیا ہے کہ کیا کے ایل جے 7 اے ریڈار نے لو پروبیبلٹی آف انٹرسیپٹ صلاحیت کے ذریعے بھارتی طیاروں کو تلاش اور ٹریک کرتے ہوئے ایسا فائر کنٹرول نظام فراہم کیا جس سے مخالف طیاروں کے ریڈار وارننگ سسٹمز کو بروقت خطرے کا اندازہ نہ ہوسکا۔
اگر یہ صلاحیت آزاد ذرائع سے ثابت ہوجاتی ہے تو جدید چوتھی نسل کے جنگی طیاروں کو دشمن کے میزائل حملے پر ردعمل دینے کے لیے دستیاب وقت نمایاں طور پر کم ہوسکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں مغربی جنگی طیاروں کے الیکٹرانک وارفیئر اور دفاعی نظام کی موجودہ حکمت عملی پر بھی نئے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کشمیر میں ہونے والی فضائی جھڑپ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک فوجی واقعہ نہیں بلکہ جدید فضائی جنگ میں ریڈار، میزائل، الیکٹرانک وارفیئر اور سافٹ ویئر پر مبنی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ایک اہم امتحان بن گئی ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس معرکے سے متعلق شواہد اب بھی متنازع ہیں اور چینی و پاکستانی ذرائع کے دعووں کو آزادانہ طور پر دستیاب شواہد سے الگ کرکے دیکھنا ضروری ہے۔












