اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو مزید نااہل اور بے حس حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا، ملک کی وحدت کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا اور ایک پورے صوبے کو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا۔
ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت دہشت گردی سے لاتعلقی اور بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت سیاسی لانگ مارچ میں مصروف ہے اور صوبے کے عوام دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے تازہ واقعے میں پانچ بے گناہ افراد کا قتل انتہائی افسوسناک ہے، شہید ہونے والوں میں دو کسٹمز اہلکار بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ اور پوری صوبائی کابینہ کو دہشت گردی کے واقعے پر عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا، تاہم پی ٹی آئی حکومت نے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت تک نہیں کی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کی زد میں ہے لیکن صوبائی حکومت سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ صوبے کے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا، عوام کا بہت خون بہایا جاچکا ہے اور مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور دہشت گردوں کے مبینہ سہولت کاروں کے درمیان ایک نظام کے شواہد موجود ہیں۔ گزشتہ تین سال کے دوران پاکستانی عوام نے دہشت گردوں کے ساتھ پی ٹی آئی کے مبینہ روابط کے شواہد دیکھے ہیں۔
وزیر دفاع نے اپنے بیان میں پی ٹی آئی کے سابق دور حکومت اور مسلم لیگ ن کے سیاسی کردار کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پی ٹی آئی دور میں نواز شریف اور ان کا خاندان قید رہا، تاہم وقت نے ثابت کیا کہ الزامات محض الزامات تھے۔
خواجہ آصف کے مطابق عمران خان کی فرمائش پر لوگوں کو قید کیا جاتا تھا، جبکہ مسلم لیگ ن نے آئینی اور پارلیمانی راستہ اختیار کیا، عدالتوں اور پارلیمنٹ میں قانونی و آئینی جنگ لڑی اور ملک و اداروں کو یرغمال نہیں بنایا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے طالبان کی اتحادی بننے کے بجائے آئینی اور پارلیمانی طریقہ اختیار کیا۔ خواجہ آصف نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ اہم فیصلے کرنے کا وقت آچکا ہے۔












