لاہور( پاک ترک نیوز) ناسا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو 2030 کے آخر میں مدار سے محفوظ طریقے سے نکالنے کے لیے اسپیس ایکس سے خصوصی خلائی جہاز تیار کرانے کا معاہدہ کرلیا ہے۔ تقریباً 430 ٹن وزنی خلائی اسٹیشن کو زمین پر بے قابو گرنے دینے کے بجائے اس کا ملبہ بحرالکاہل کے ایک انتہائی دور دراز اور غیر آباد علاقے کی جانب گرایا جائے گا۔
ناسا کے مطابق اسپیس ایکس کی جانب سے تیار کیا جانے والا یو ایس ڈی آربٹ وہیکل بنیادی طور پر کارگو ڈریگن خلائی جہاز کا تبدیل شدہ ورژن ہوگا۔ اس میں اضافی ڈریکو تھرسٹرز نصب کیے جائیں گے تاکہ یہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے ساتھ جڑ کر اس کے مدار کو بتدریج کم کرنے اور آخرکار اسے زمین کی فضا میں داخل کرنے کے لیے ضروری دھکا فراہم کرسکے۔
ناسا نے جون 2024 میں اسپیس ایکس کو اس منصوبے کے لیے منتخب کیا تھا۔ معاہدے کی مالیت 84 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک ہے۔ ناسا کے مالیاتی منصوبے کے مطابق خلائی جہاز کی تیاری اور بنیادی ترقی کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے جبکہ اس کی فراہمی 2028 کے آخر تک متوقع ہے۔
منصوبے کے مطابق بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو 2030 کے آخر میں، آخری خلابازوں کے اسٹیشن چھوڑنے کے بعد، زمین کی فضا میں داخل کیا جائے گا۔
ناسا کا کہنا ہے کہ اسٹیشن کو ایک ہی بار میں زوردار دھکا دے کر زمین پر گرانے کے بجائے مرحلہ وار اس کا مدار کم کیا جائے گا۔ زمین کی کشش اور ماحولیاتی رگڑ بھی مدار کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ موجودہ خلائی اسٹیشن اور وہاں موجود پروگریس خلائی جہاز بھی ضرورت کے مطابق معاونت فراہم کرسکتے ہیں۔
آخری مرحلے میں نیا ڈی آربٹ وہیکل اسٹیشن کے مدار اور سمت کو درست کرتے ہوئے طاقتور انجن برن کے ذریعے اسے مقررہ راستے پر لائے گا۔
430 ٹن وزنی خلائی اسٹیشن کو بے قابو انداز میں زمین پر واپس لانا خطرناک ہوسکتا ہے، اس لیے ناسا اسے بحرالکاہل کے انتہائی دور دراز علاقے کی جانب لے جائے گا۔
اس حوالے سے اکثر پوائنٹ نیمو کا نام لیا جاتا ہے، جو زمین پر خشکی سے سب سے زیادہ دور سمندری مقام ہے۔ یہ جنوبی بحرالکاہل میں واقع ہے اور قریب ترین خشکی سے تقریباً 2 ہزار 688 کلومیٹر دور ہے۔
تاہم ناسا کے منصوبے کے مطابق خلائی اسٹیشن کو عین پوائنٹ نیمو پر گرانا ضروری نہیں۔ اصل ہدف سمندر کا ایک وسیع اور غیر آباد علاقہ ہوگا جہاں اسٹیشن کے دوبارہ داخلے کے دوران بننے والا ملبے کا پھیلاؤ محفوظ حد میں رکھا جاسکے۔
پوائنٹ نیمو کے حوالے سے ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تقریباً 400 کلومیٹر کی بلندی پر زمین کے گرد گردش کرتا ہے اور اس کا مدار پوائنٹ نیمو کے عرض البلد سے گزرتا ہے۔
چنانچہ جب آئی ایس ایس اس علاقے کے اوپر سے گزرتا ہے تو اس میں موجود خلاباز چند لمحوں کے لیے زمین پر موجود کسی بھی انسان کے مقابلے میں پوائنٹ نیمو کے زیادہ قریب ہوسکتے ہیں۔تاہم یہ صورتحال عارضی ہوتی ہے، کیونکہ خلائی اسٹیشن انتہائی تیز رفتاری سے زمین کا چکر مکمل کرتا ہے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو محفوظ کرکے میوزیم میں رکھنے کی خواہش فطری ہے، لیکن عملی طور پر یہ انتہائی مشکل کام ہے۔آئی ایس ایس کی تعمیر کا آغاز 1998 میں ہوا تھا اور نومبر 2000 سے مسلسل انسان اس میں مقیم رہے ہیں۔ اسٹیشن کی تعمیر کے لیے متعدد خلائی مشنز، 161 سے زائد خلائی چہل قدمیاں اور تقریباً 13 سال کا عرصہ لگا۔
یہ اسٹیشن زمین پر واپس لانے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا تھا۔ اس کے بڑے بڑے ماڈیولز، سولر پینلز، ریڈی ایٹرز اور دیگر حصے خلا میں جوڑ کر ایک مکمل اسٹیشن بنایا گیا۔
اس کے علاوہ اسٹیشن کی ملکیت اور نظام مختلف شراکت دار ممالک میں تقسیم ہے اور اس کے بجلی، کولنگ، رہائش، رہنمائی اور سائنسی لیبارٹری کے نظام ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پچاس برس پرانا خلائی جہاز آج بھی سرگرم، دنیا حیران
جب خلائی اسٹیشن زمین کی فضا میں داخل ہوگا تو اس کے مختلف حصے الگ ہونا شروع ہوجائیں گے۔ سولر پینلز اور ریڈی ایٹرز پہلے الگ ہوسکتے ہیں، اس کے بعد بڑے ماڈیولز اور ٹرس اسٹرکچر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گے۔
اسٹیشن کا زیادہ تر حصہ شدید حرارت کے باعث پگھل، جل یا بخارات میں تبدیل ہوجائے گا، تاہم کچھ بھاری اور مضبوط دھاتی حصے فضا میں مکمل طور پر تباہ نہ ہونے کے باعث سمندر تک پہنچ سکتے ہیں۔
اسی لیے ناسا کے لیے درست ڈی آربٹ کوریڈور کا تعین انتہائی اہم ہے تاکہ بچ جانے والا ملبہ آبادی والے علاقوں کے بجائے کھلے سمندر میں گرے۔
اسکائی لیب خلائی اسٹیشن 1979 میں بے قابو انداز میں زمین کی فضا میں داخل ہوا تھا اور اس کا ملبہ آسٹریلیا کے مختلف علاقوں میں گرا تھا۔
اس کے برعکس روسی خلائی اسٹیشن میر کو 2001 میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جنوبی بحرالکاہل کے علاقے میں گرایا گیا تھا۔









