لاہور( پاک ترک نیوز) انیس سو پینسٹھ میں ملائیشیا سے علیحدگی کے بعد سنگا پور وسائل سے محروم جزیرہ دنیا کی امیر ترین معیشتوں میں شامل ہو گیا۔
آج دنیا کے ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک میں شمار ہونے والا سنگاپور 1965 میں ایک ایسا چھوٹا سا جزیرہ تھا، جسے ملائیشیا سے علیحدہ ہونے کے بعد شدید معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا تھا۔ نہ قدرتی وسائل تھے، نہ بڑی منڈی، اور نہ ہی مضبوط معیشت، مگر صرف چھ دہائیوں میں سنگاپور نے خود کو دنیا کی کامیاب ترین معیشتوں میں تبدیل کر دیا۔
سنگا پور کے بانی رہنما لی کیون نے 1965 میں خطاب کرتے ہوئے ملائیشیا سے علیحدگی کا اعلان کیا ۔ اس موقع پر وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور خطاب کے دوران آبدیدہ ہو گئے۔ اس وقت سنگاپور کے مستقبل کو غیر یقینی تصور کیا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی نئی درجہ بندی ، یورپ کا مکمل غلبہ
آزادی کے بعد بیشتر نئے ممالک درآمدات پر پابندیاں لگا کر مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کی پالیسی اپنا رہے تھے، تاہم لی کوان یو اور ان کے وزیر خزانہ نے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا۔انہوں نے معیشت کو مکمل طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھول دیا، درآمدی محصولات کم رکھے، انگریزی کو سرکاری کاروباری زبان بنایا اور دنیا کی بڑی کمپنیوں کو سنگاپور میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
آزاد کے بعد سنگا پور نے دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں سے رابطے کیے اور انہیں سرمایہ کاری کے لیے متعدد سہولتیں فراہم کیں، جن میں دس سال تک ٹیکس میں چھوٹ،پہلے سے تیار صنعتی زون ،انگریزی جاننے والی تربیت یافتہ افرادی قوت،شفاف اور مستحکم قانونی نظام،حکومتی سطح پر فوری معاونت شامل تھی
آج سنگاپور دنیا کے اہم مالیاتی، تجارتی اور صنعتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق شفاف طرزِ حکمرانی، سرمایہ کار دوست پالیسیاں، معیاری تعلیم، مضبوط قانون کی حکمرانی اور طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی نے اس چھوٹے سے ملک کو دنیا کی کامیاب ترین معیشتوں میں شامل کر دیا ہے۔












