
از: سہیل شہریار
دنیا بھرکےملکوں کی بڑھتی ہوئی تعداد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر رہی ہے۔ 1988سے اب تک 149سے زیادہ ممالک بین الاقوامی سطح پرفلسطین کو تسلیم کرنےوالوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ جبکہ فرانس، کینیڈا، برطانیہ، مالٹا، پرتگال اور آسٹریلیانے ستمبر میں اقوام متحدہ کے 80ویں سالانہ اجلاس کے موقعہ پرفلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے والی بیشتر اقوام نے فلسطین نیشنل کونسل (پی این سی) کے فلسطینی ریاست کے اعلان کے بعد 1988 میں اسے تسلیم کیا۔ان کی مجموعی تعداد 80ہے۔اور ان میں اسلامی دنیا کے تقریباً سبھی ملکوں سمیت ایشیا اور افریقہ کے ترقی پزیر ملک شامل ہیں۔ پھرسوویت یونین سے الگ ہونے والی وسط ایشیائی ریاستوں سمیت22 دیگر غیر مغر بی ملکوں نے 1990سے 2010 کی دہائیوں میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔جبکہ 1988کے بعد 2011وہ سال تھا جس میں سب سے زیادہ 19ملکوں نے ایک ہی سال کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔چنانچہ2010 سے 2020تک کی دہائی کو کولمبیاسے ارجنٹائن اور پیراگوئے سے پیرو تک جنوبی امریکہ کے ملکوں کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کی دہائی قرار دیا جا سکتا ہے۔اگر رواں دہائی کے اب تک پانچ برسوں کی بات کی جائے توپہلے تین سالوں میں کسی بھی ملک نے آگے آنے کی ہمت نہیں کی ۔پھر 2023میں میکسیکو نے اس جمود کو توڑا اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والی اقوام کی صف میں شامل ہوا ۔ جبکہ گذشتہ سال 2024کے موسم بہار میں مزیدنو یورپی اور کیریبین ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔ جن میں آرمینیا،بارباڈوس، آئرلینڈ، جمیکا، ناروے اور اسپین سمیت دیگرشامل ہیں۔
فرانس، کینیڈ ا ، برطانیہ ، پرتگال اور مالٹا کے بعدحال ہی میں آسٹریلیانےبھی ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان حالیہ اعلانات نے امریکہ کو اسرائیل کے معاملے پر اپنے کچھ قریبی اتحادیوں سے تیزی سےدور کر دیا ہے۔اگرچہ امریکہ اور اسرائیل نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ان اعلانات کی مذمت کی ہے ۔تاہم غزہ کی بد سے بدتر ہوتی صورتحال اور ایک بڑے انسانی المیے کو دیکھتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ دونوں کو عالمی سطح پر شدید تنقید اور مذمت کا سامنا ہے۔












